سپریم کورٹ سے امریکی صحافی ڈینیئل پرل قتل کیس کے ملزمان کی بریت کے فیصلے کے ایک روز بعد پاکستان کے لیے اپنے پہلے بیان میں امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلِنکین نے کہا ہے کہ امریکا ملزم عمر شیخ کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کو تیار ہے۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے گزشتہ روز عمر شیخ کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ‘انہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے ڈینیئل پرل کے اغوا اور قتل میں ملوث افراد کو بری کرنے کے فیصلے اور ان کی رہائی کی مجوزہ کارروائی پر سخت تشویش ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ‘امریکی شہری کے خلاف عمر شیخ کے ہولناک جرم پر ہم امریکا میں ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اسی تناظر میں ایک بیان میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے کہا تھا کہ ‘امریکا سپریم کورٹ کی جانب سے ڈینیئل پرل کے قتل کے ذمہ داران کی بریت کی توثیق کرنے کے فیصلے پر برہم ہے’ اور مقتول صحافی کے اہل خانہ کے لیے انصاف حاصل کرنے کے لیے حکومت کے عزم کی تائید کی۔ یاد رہے کہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کراچی میں مذہبی انتہا پسندی پر تحقیق کررہے تھے جب انہیں جنوری 2002 میں اغوا کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ سال 2002 میں امریکی قونصل خانے کو بھجوائی گئی ڈینیئل پرل کو ذبح کرنے کی گرافک ویڈیو کے بعد عمر شیخ اور دیگر ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ شریک ملزمان فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو مقتول صحافی کے اغوا کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
جو بائیڈن انتظامیہ کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان پر امید تھاکہ پاکستان اور امریکہ کے وہ تعلقات جو ٹرمپ دور حکومت میں کشیدہ نہیں تو بہترین بھی نہیں تھے کم از کم بہتر ہو جائیں گے مگر پاکستان کے ساتھ سر منڈواتے ہی اولے پڑنے والا معاملہ ہوا ہے۔ بائیڈن اتظامیہ نے آتے ہی افغانستان امن معاہدے پر نظر ثانی کا اعلان کر دیا جس سے پاکستان کو سخت تشویش لاحق ہے۔ بائیڈن انتظامیہ طالبان کے ساتھ امن معاہدے کو روکنا چاہتی ہے جبکہ پاکستان چاہتا ہےکہ اس معاہدے پر جلد از جلد عمل درآمد ہو۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ افغان حکومت اس معاہدے کے حق میں نہیں ہے اس لیے وہ اس معاہدے کو روکنا چاہتا ہے جب کہ اس معاہدے کو روک کر امریکہ پاکستان پر اشرف غنی کو ترجیح دے رہا ہے کیونکہ پاکستان اس معاہدے پر عمل درآمد چاہتا ہے۔ یہر حال دونوں ممالک کے مابین یہ تنازع موجود ہی تھا کہ احمد عمرشیخ کو پاکستان سپریم کورٹ نے رہا کر دیا۔
بلاشبہ ڈینیل پرل کا قتل ایک سفاکانہ فعل تھا اور اس کے قاتلوں کو کیفر کردار تک بھی پہنچنا چاہیے اور اس حوالے سے پاکستان نے کوششیں بھی کی ہیں تاہم اگر کسی شخص کے خلاف مکمل ثبوت موجود نہیں ہیں تو عدالت نے اسے بری ہی کرنا ہے کیونکہ عدالت کا کام ثبوتوں کی بنیاد کر کسی کیس کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ اگر احد عمر شیخ کے خلاف ثبوت ناکافی ہیں تو عدالت اسے کس بنیاد پر سزا دے؟ امریکہ کا یہ کہنا کہ وہ عمر شیخکو اپنے ملک میںٹرائ کرنے پہ تیار ہے سراسر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے مابین ملزمان کے تبادلے کو بھی کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے تاہم جس طرح ریمنڈ ڈیوس کو امریکہ نے واپس لیا اور پھر عافیہ صدیقی کو پاکستان کی سیکنڑوں درخواستوں کے باجود نام نہاد انصاف کی بھینٹ چڑھایا اس سے یہ محاورہ پاکستان پر درست ثابت ہوتا ہےکہ زبردست کا ٹھینگا سر پر۔
مزید برآں جس طرحانٹونی بلنکن نے بیان دیا ہے کہ اس سے پاکستان مخالف عناصر کو یہ پروپیگنڈہ کرنے کا موقع مل جائے گا کہ پاکستان دہشت گردوںکی سرپرستی کرنے والی سرزمین ہے۔ امریکہ کو کسی بھی خودمختار ملک کے نظام انصاف میں مداخلت کرنے کا ہرگز حق حاصل نہیں ہے۔ اگر بلنکن کے پاس اسد عمر شیخکے خلاف کوئی بھی ثبوت ہیں تو وہ انہیںعدالت میںپیش کرنے چاہیئں نہ کہ عمر شیخکو امریکہ حوالگی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے پاس امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا کیا آپشنز ہیں۔ اول آپشن تو قانونی آپشن ہے جس پر عمل شروع ہوگیا ہے اور سندھ حکومت نے اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کر دی ہے۔ اگر عمر شیخ براہ راست پرل کے قتل ملوث نہیںتھے تب بھی بہت سارے ایسے عناصر کے ساتھ ان کے روابط ثابت ہوتے ہیں جو اس قتل میں ملوث تھے اور اس بنیاد پر عمر شیخ کے خلاف دوبارہ سماعت ہوسکتی ہے۔
دوسر آپشن یہ ہے مرکز خود اس کیس میںعمر شیخ کے خلاف پارٹی بنے اور سپریم کورٹمیںاپیل کرے تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا مرکز ایسے کیسز میںپارٹی بن سکتا ہے؟ کیا پاکستانی آئین میںایسی شق موجود ہے جس کی رو سے مرکز کسی شخص کے خلاف قتل کیس میںپارٹی بن سکتا ہے؟ تیسرا اور آخری آپشن جس پر شاید ہی پاکستان حکومت عمل کر سکے وہ عمر شیخ کی امریکہ کو حوالگی ہے۔اگرچہ ہماری تاریخایسی حوالگیوںسے بھری پڑی ہے جیسا کہ ایمل کانسی کو دیکھ لیںیا عافیہ صدیقی اور ماضی میںکئی کیسز ایسے ہیںجن میںپاکستان نے امریکہ کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کے باوجود اپنے شہریوںکو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا ہے۔ مگر پھر بھی موجودہ غیر مقبول حکومت کے لیے یہ آپشن اختیار کرنا آسان نہیںہے۔ اس لیے حکومت اوپر والے دو آپشنز پر غور کر کے عمر شیخ کو دوبارہ سزا دلوا کر امریکی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرے گی تاہم ایسی صور ت میں پاکستان کے نظام انصاف پر بھی کئی انگلیاں اٹھیں گی۔ جو بھی ہے اس وقت ڈینیل پرل قتل کیس پاکستان کے لیے ایک ٹیسٹ کیس بن چکا ہے جس پر پاکستان اور امریکی تعلقات کا مستقبل قائم ہوگا۔
ہفتہ، 30 جنوری 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com