پرتگالی فٹبال سٹار کرسٹیانو رونالڈو نے سعودی عرب میں سیاحت کے فروغ کے لیے ہونے والی منافع بخش پیش کش کو مسترد کردیا ہے . برطانوی روزنامہ دی ٹیلی گراف نے انکشاف کیا ہے کہ یووینٹس کے 35 سالہ سٹرائیکر کو 7.3 ملین ڈالر کی سالانہ ادائیگی کی پیش کش کی گئی تھی . مبینہ طور پر اس معاہدے کے تحت رونالڈو کو سعودی عرب کے متواتر دورے کرتے ہوئے دکھایا جانا تھا جب کہ ان کی تصاویر ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے استعمال کی جانی تھیں۔ رونالڈو کی جانب سے اس پیشکش سے انکار سعودی ولی عہد کی ان کوششوں کو سخت دھچکاہے جووہ دنیا میں سعودی عرب کے امیج کو بہتر بنانے کے لیے کر رہے ہیں اور اپنے پس پردہ حقیقی اقتدار کو مضبوط بنانے کے لیے کر رہے ہیں۔ رونالڈو کو سعودی عرب کی سیاحتی تشہیر کے لیے چھ ملین ڈالر کی سالانہ پیشکش کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ فٹ بال دنیا بھر میں سب سے زیادہ مقبول کھیل ہے اور اگر رونالڈو اس پر تیار ہوجاتے تو یہ یہ سعودی عرب کے لیے ایک بہت بڑا سود مند معاہدہ قرار پاتا۔
رونالڈو کی جانب سے اس معاہدے سے انکار کے بن سلمان کے لیے اچھے نتائج نہیں نکلیں گے کیونکہ بن سلمان اپنے مخالفین کو دبانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے پہلے ہی بہت زیادہ بدنام ہیں اور رونالڈو کے انکار نے اس پر مہر ثبت کر دی ہے تاہم بن سلمان کے لیے یہ بری خبر حالیہ سعودی بحران میں ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ بن سلمان اپنے ہیومن رائٹس حقوق کے خراب ریکارڈ سے دنیا کی نظریں ہٹانے کے لئے کھیل کے گلیمر اور وقار کو پبلک ریلیشن کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رے ہیں اور ان کے مستقبل کا انحصار ہی اس بات پر ہے کہ سعودی امیج کو دنیا کے سامنے بہتر کریں اور اپنی معیشت کو پیٹرو ڈالر سے ہٹا کر سیاحت، گلیمر، انفراسٹرکچر، صحت ، تعلیم اور دیگر چیزوں پر مرکوز کریں اور اسی کو سعودی عرب نے وژن 2039 کا نام یا ہے۔
اس منصوبے کا ایک مقصد سعودی عرب کے انسانی حقوق کی پامالیوں اور مظالم پر پردہ ڈالنا ہے اور ملک کو مغرب کی جانب سے کلین چٹ دلوانا ہے جبکہ اس منصوبے سے کئی دوست چہرہ افراد کو بھی اپنی طرف متوجہ کرنا ہے۔ جب کہ سعودی عرب ملک میں بین الاقوامی سپورٹس ایونٹس بھی منعقد کرا کہ دنیا کو یہ بتانا چاہتاہے کہ وہ سخت مذہبی فضا سے لبرلزم کی طرف گامزن ہے تاہم تجزیہ نگاروں نے سپورٹس ایونٹس کو سپورٹس واشنگ کا نام دیا ہے جس کا مقصد محض سعودی جرائم کو چھپانا ہے۔ انسانی حقوق ک خلاف ورزیوں کو حل کیے بغیر اس طرح کے اقدامات کو مقصد صرف اور صرف ایک ترقی پسند ملک کا تصور دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ جب کہ مخالفیں، صحافیوں، اقلیتوں کے خلاف نسلی، ثقافتی اور جنسی جائم اور انسانی حقوق کے وکیلوں کو جیلوں میں بند کرنے، سعود عرب یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے جرائم پر پردہ ڈال لے گا ۔ سعودی عرب کو 2020 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی س بھی اس لیے محروم رکھا گیا ہے کہ اس کی رجعت پسند پالیسیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے زمر ے میں آتی ہیں۔
عرب امارات میں سعودی سفیر نے ایک امریکی لابنگ فرم کے ساتھ پارٹنر شپ کر کے نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن، میجر لیگ بیس بال اور میجر لیگ سوسر کے ساتھ تعلقات قائم کرنے اورمقامی و بین الاقوامی کھیلوں میں 650 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی کوششیں کی ہیں۔ جب 2019 میں سعودی عرب نے خواتین ڈبلیو ڈبلیو ای ریسلنگ کے میچوں کی میزبانی کی تھی، تو اس وقت ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر فلپ ناصف نے اسے سپورٹس واشنگ کا نام دیا تھا۔ناصف نے نیویارک ٹائمز سے بات چیت میں کہا کہ سعودی عرب اقلیتوں کے حقو اور عورتوں کے حقوق غصب کرنے کے معاملے میں بدنام ہے خواتین کی ریسلنگ منعقد کرا نا اپنا امیج تبدیل کرنے کے لیے کیا ہی خوب طریقہ ہے۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ جو کچھ سعودی ولی عہد فروخت کر رہے ہیں بین الاقوامی برادری وہ لینے پہ تیار نہیں ہے۔ ریسلنگ میچز کی میزبانی، پی جی اے گولف ٹورنامنٹ اور یو ای ایف اے فٹ بال چیمپینز لیگ کا انعقاد اس حقیقت کو چھپا نہیں سکتا کہ واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جمال خاشقجی کو ظالمانہ طریقے سے قتل کیا گیا۔
اپنے بین الاقوامی امیج کو بہتر بنانے کے لیے سب سے سستا اور بہترین طریقہ یہی ہے کہ سعودی عرب انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ختم کر کے نئی ریفارمز متاثر کروائے اور اپنے شہریوں کے حقوق کا احترام کر کے انہیں شخصی آزادی عطا کرے۔ رونالڈو کی جانب سے ملین ڈالر کی پیشکش کو ٹھکرانے کا مطلب یہیی ہے کہ بین الاقوامی طور پر اپنی شہرت کو بہتر بنانے کی سعودی منصوبہ سازی درست طریقے سے کام نہیں کر رہی۔ اور پرتگالی فٹ بالر نے اس تشہیری مہم کو نہ کر کے ایک بہترین روایت کی بنیاد رکھی ہے۔ ایسی رقم کو قبول کر لینا جس کو کسی نے اخلاقی بنیادوں پر ٹھکرا دیا ہو، کسی بھی شخص کے ذاتی تعلقات اور شہرت کو برباد کر سکتی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ سعودی عرب فیفا کے ایک بڑے کھلاڑی لیونل میسی کو چھ گنا زیاہ رقم کی پیش کش کی ہے اور اب دیکھنا ہے کہ انکا جواب کیا ہوتا ہے؟
محمد بن سلمان کے لیے رونالڈو کی جانب سے اس پیشکش کا ٹھکرایا جانا انتہائی غیر مناسب وقت پر سامنے آیا ہے کیونکہ ایک جانب سعودی معشیت بیک وقت دومحاذوں پر لڑ رہی ہے ایک کرونا وبا اور دوسرا تیل کی گرتی قیمتیں۔ جس کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح 12 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ محمد بن سلمان کو امید ہے کہ چھوٹے بزنس 2030 تک سعودی معیشت کے لیے 35 فیصد زر مبادلہ پیدا کریں گے تاہم ایک بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کرونا وبا کی وجہ سے چھوٹے بزنس فائدے کی بجائے نقصان میں جا رہے ہیں جب کہ پانچ میں سے ایک بزنس ختم ہوچکا ہے۔ جبکہ وبا نے سیاحت کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ جبکہ وژن 2030 میں سالانہ 5۔1 ارب سیاحوں کا ٹارگٹ سیٹ کیا گیا ہے۔ رونالڈو کی جانب سے سیاحتی پیشکش کو ٹھکرا دینے سے سعودی عرب کے مقاصد کو سخت ٹھیس پہنچی ہے۔
اتوار، 31جنوری 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com