ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جنوبی غزہ میں قابض فوج کافلسطینی کسانوں پردستی بوں سے حملہ

قابض فوج کے فلسطینیوں پر حملے ، خاص طور پر کسانوں ، مزدوروںاور چرواہوں سمیت محصور علاقے  غزہ کی پٹی میں ماہی گیروں پر اپنے ہی معاہدوں کی متعدد خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے۔

گذشتہ روز قابض ریاست اسرائیل میں محصور علاقے غزہ کی پٹی کے جنوبی حصے خان یونس کے مشرق میں صہیونی فوج کی جانب سے فلسطینی کسانوں پر بلاجواز فائرنگ اور دستی بموں سے حملہ  کیا جس کے نتیجے میں کھیتوں میں کام کرتےدرجنوں فلسطینی کاشت کار زخمی ہوگئے۔

عینی شاہدین کے مطابق قابض فوجیوں نے ٹاوروں اور ٹینکوں سے کسانوں پر براہ راست فائر کیے جبکہ فائرنگ کے باعث افراتفری پھیلتے ہی صہیونی فوج نے کھیتوں اور آس پاس لوگوں پرگرینیڈ فائر کیے، جس سے کھیتوں اور کسانوں کونقصان پہنچا،جس کے بعد قابض فوج نےمزید خوف پھیلاتے ہوئے فلسطینیوں کو وہاں سے چلے جانے پرمجبور کردیا۔

خیال رہے کہ صہیونی فوج کی ان کارروائیوں کا مقصد فلسطینیوں کو پریشان کر نا اور انہیں ان کی زمینوں  سے دست بردارکر نے  کی دیرینہ سازشوں کا حصہ ہے۔

اسرائیلی بحریہ کی غزہ میں فلسطینی ماہی گیر کشتیوں پر گولہ باری

Israeli-navy-shells-Palestinian-fishing-boats-Gaza

اسرائیلی بحریہ کےجہازوں نے فلسطینی ماہی گیر کشتیوں پر گولہ باری کی  جبکہ وہ فلسطینی سمندری حد بندی میں2 ناٹیکل مائل سمندری میل سے بھی کم میں سفر کر رہے تھے۔

گذشتہ روز مقبوضہ فلسطینی محصورعلاقہ غزہ میں صہیونی بحریہ کے جہازوں نےفلسطینی ماہی گیر کشتیوں پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ سمندر میں فلسطینی ماہی گیروں کے لیے صہیونی حکام کی جانب سے مقرر کی گئی حد بندی میں 2 ناٹیکل مائل سے بھی کم میں مچھلیوں کے شکار کے لیے سفر کر رہے تھے۔

صہیونی بحریہ کے اس حملے میں اگرچہ کسی ماہی گیر کےجانی نقصان کی اطلاعات نہیں ہیں تاہم صہیونی فوج کی گولہ باری کی زد میں آکر کئی کشتیاں تباہ ہوگئیں اور بڑے پیمانے پر فلسطینی ماہی گیر بے روزگار ہوگئےجبکہ صہیونی گولہ باری کے نتیجے میں متعدد مچھیروں کو مچھلیوں کے شکار کے بغیر ہی خالی ہاتھ اپنے گھروں کو جانا پڑا۔

واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور صہیونی ریاست کے درمیان 1993میں ہونےوالے اوسلو معاہدے کے تحت فلسطینی ماہی گیروں کو 30 ناٹیکل مائل میں رہتے ہوئے مچھلیوں کے شکار کی اجازت تھی تاہم اسرائیل نےا پنے ہی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کو 10 ناٹیکل مائل کردیا تھا لیکن اب اس کی حد مزید کم کرکے تین ناٹیکل مائل کردی ہے جس کے بعد فلسطینی ماہی گیروں پر حد بندی کی خلاف ورزی کے جھوٹے الزامات لگا کر قابض فوج آئے دن بے قصور فلسطینی مچھیروں پر مظالم ڈھاتی ہے۔

منبع: روزنامہ قدس

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں