اسلامی کلنڈر میں جب شوال کی 8 تاریخ آتی ہے تو فوری یاد جنت البقیع طرف جاتی ہے۔ بقیع حرم
نبویؐ کے بعد مدینہ کا اہم ترین اور افضل ترین مقام ہے۔ بقیع کا قبرستان سب سے پہلا قبرستان ہے۔
بقیع کی اہمیت اور فضیلت میں اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ صلی اللہ علیہ والیہ وسلم کا فرمان ہے۔
“بقیع سے ستر ہزار لوگ محشور ہوں گے کہ جن کے چہرے چودہویں کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے”۔
جنت البقیع میں اولاد رسولؐ مدفن ہے۔
بعض روایات کے مطابق حضرت فاطمہ زہرا سلام الله علیہا بھی یہیں مدفن ہیں۔ اسی طرح امام حسن ؑ، امام
سجادؑ، امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ بھی یہیں آرام فرما رہے ہیں۔ پیغمبراکرمؐ کے جلیل القدر صحابہ،
حضرت ام البنین (س) اور جناب حلیمہؓ کا مدفن بھی بقیع میں ہے۔
یہاں تمام قبریں بغیر نام و نشان کے ہیں لیکن ماضی میں قبور پر گنبد اور مقبرے بنے ہوئے تھے۔ٓ پانچویں صدی
ہجری کے بعد بقیع کی قبور پر روضہ بنا ہوا تھا۔
صدیاں اور زمانے بدلے، مقدس اور متبرک جگہ کا کنٹرول آل سعود کے پاس آتا ہے۔ پھر اسلامی تاریخ کی سیاہ
ترین دن 8 شوال 1926 آتا ہے جب آل سعود مزارات کو بدعت قرار دے کر مسمار کر دیتی ہے۔ اہل بیت
سے محبت رکھنے والے 1926 سے اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں اور عالم کے ضمیر کو جھنجوڑتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت میں بسنے والے محبان اہل بیت اس دن کو خصوصیت کے ساتھ مناتے ہیں۔ ان کا ایک
ہی مطالبہ ہوتا ہے کہ خانوادہ رسالت صلی اللہ علیہ والیہ وسلم کے مزاروں کو اصل حالت میں تعمیر کرایا جائے۔
وہاں عبادت کی اجازت دی جائے اس وقت شمع رسالت کے پروانوں کو وہاں کھڑے ہو کر فاتحہ تک پڑھنے کی
اجازت نہیں دی جاتی۔
No associated posts.