حکومت نے رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح تقریبا چار فیصد ہونے کا دعوی کیا ہے۔ یہ شرح حکومت
کے اپنے اندازوں اور اسٹیٹ بینک اور عالمی مالیاتی اداروں کے تخمینوں سے کافی زیادہ ہے۔
پی ٹی آئی نے اپنے پہلے اور دوسرے مالی سال بھی اقتصادی ترقی کی جو شرح پہلے بتائی وہ بعد میں
غلط ہی نکلی تھی۔
نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے مطابق رواں مالی سال اقتصادی ترقی کی شرح 3.94 فیصد رہنے کی توقع ہے تاہم
یہ شرح حکومتی اندازوں سے بھی تقریبا دوگنا ہے اسٹیٹ بینک کا اندازہ تھا کہ رواں مالی سال ملکی
معیشت کی ترقی کی شرح تین فیصد تک ہو سکتی ہے۔ آئی ایم ایف اور عالمی بینک نے پاکستان کی
جی ڈی پی کی شرح نمو 2 فیصد تک ہونے کا اندازہ لگایا تھا۔
پی ٹی آئی حکومت کے پہلے مالی سال دو ہزار اٹھارہ انیس میں بھی نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے اس سال
جی ڈی پی کی شرح نمو 3.3 فیصد بتائی تھی تاہم بعد میں سرکاری طور پر بتایا گیا کہ مالی سال دو ہزار
اٹھارہ انیس میں اقتصادی ترقی کی اصل شرح 3.3 نہیں بلکہ 1.9 فیصد تھی۔
گزشتہ مالی سال دو ہزار انیس بیس کے اختتام پر بھی نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے ملکی معشت کی شرح نمو
منفی صفر اعشاریہ چار فیصد بتائی تھی تاہم اب بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال معاشی تنزلی کی شرح صفر
اعشاریہ چار فیصد نہیں بلکہ صفر اعشاریہ پانچ فیصد تھی۔
معاشی ماہرین کے مطابق ملک کی موجودہ اقتصادی صورتحال کے پیش نظر معاشی ترقی میں تقریباً چار فیصد
ترقی کا دعوی حیران کن ہے۔
تحریک انصاف حکومت کے 30 ماہ میں 20 ارب ڈالر ریکارڈ قرضہ لیاگیا
پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے تقریباً چار فیصد شرح نمو کا اعلان ایسے
وقت میں کیا گیا ہے جب حکومت کو اپنے سیاسی مخالفین کی جانب سے ملکی معیشت تباہ کرنے کے الزامات
کا سامنا ہے۔ ماہر معیشت ڈاکٹر اشفاق حسن خان کے مطابق حکومت کی جانب سے جو جی ڈی پی کی
شرح نمو بتائی جا رہی ہے وہ ان کے لیے حیران کن ہے۔