ےاۤئندہ چند سالوں تک پاکستان میں پانی کی لوڈشیڈنگ شروع ہونے کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔قیام
پاکستان سے اب تک ملک میں پانی کی فی کس دستيابی ميں 84 فيصد کی کمی ہو چکی ہے۔
1951 تک پاکستان میں فی کس سالانہ 5650 کيوبک ميٹر پانی دستياب تھا۔ جو اب کم ہو کر صرف
908 کیوبک میٹر رہ گیا ہے۔
پی ٹی وی میں ڈراموں کے بعد آئیڈیاز کا بحران، بھاری معاوضے کے بدلے تخلیقات خریدنے کا فیصلہ
فی کس ایک ہزار کیوبک میٹر سے کم پانی والے ملک کو پانی کی قلت والا ملک سمجھا جاتا ہے قیام
پاکستان کے ابتدائی سالوں موجودہ پاکستان کی آبادی 3 کروڑ 37 لاکھ تھی اور دستياب پانی 70 ملین
ایکڑ فٹ تھا دو بڑے ڈيمز اور چھوٹے ڈیموں کی تعمعر کے باعث 1980 تک دستاب پانی 140 ایم اے ایف
پہنچ گيا تھا لیکن اس کے بعد اۤبادی تو بڑھتی رہی لیکن نئے بڑے ڈیمز نا بنے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں 2025 تک پاکستان میں فی کس دستیاب پانی صرف 858
کیوبک میٹر رہ جائے گا۔
حامد میر کو جیو نیوز نے نکال دیا، پروگرام کپیپٹل ٹاک بھی بند
رپورٹ کے مطابق قطبین کے بعد دنیا کے سات بڑےگلشئیرز میں سے دوسرے سب سے بڑے گلیشئر سمیت
چارپاکستان میں ہیں۔ ان کے باوجود پاکستان کا شمار جلد ہی پانی کی شدید قلت والے ممالک ہونے کے
امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ نئے ڈیم نا بنے تو 2025 تک پاکستان کو 83 ایم اے ایف تک پانی کی کمی
کا سامنا ہو گا۔
واپڈا کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اپنے دریاوں میں آنے والے پانی کا صرف 10 فیصد ہی سٹور کر سکتا
ہے۔ جبکہ اوسطا دنیا مین 40 فیصد پانی سٹور کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش
وقت کے ساتھ بڑھنے کی بجائے کم ہو گئی۔ اس وقت پاکستاں صرف 30 دن کی ضروریات کا پانی ذخیرہ
کر سکتا ہے بھارت کے پاس 170 دن مصر کے پاس 700 دن اور امریکا کے پاس 900 دن کے لیے پانی
اسٹور کرنے کی گنجائش ہے۔