ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

افغان عوام کی مشکلات دور کرنے کے لیے مزید اقدام کرتے رہیں گے: وائٹ ہاوس

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے دنیا کے امیر ترین بیس ملکوں کے سربراہان کے ساتھ افغانستان کے معاملے پر بات چیت کی ہے۔ وائٹ ہاوس کے مطابق ”امریکہ افغانستان کی صورتحال کے پیش نظر بین الاقوامی برادری کے ساتھ قریبی تعلق برقرار رکھنے کے عزم پر قائم ہے، تاکہ افغان عوام کی مدد کے لئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سفارتی اور معاشی مدد فراہم کی جا سکے”۔

امریکہ نے افغانستان کے لیے نئی رقوم فراہم کرنے کا اعلان نہیں کیا، اور یہ واضح بھی نہیں کیا گیا کہ امریکہ کی جانب سے تجویز کردہ یقین دہانیوں کے بعد کیا ٹھوس اقدام کیے جائیں گے۔ تاہم، وائٹ ہاوس کی ترجمان جین ساکی نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ افغانستان کی بڑھ چڑھ کر امداد کرتا رہا ہے اور اس نے اس سال 33 کروڑ ڈالر سے زیادہ امداد فراہم کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغان عوام کی مشکلات دور کرنے کے لیے ہم مزید اقدام کرتے رہیں گے، اور ہم دیگر عطیہ دہندگان ملکوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ درکار امداد فراہم کرتے رہیں۔
جین ساکی نے بتایا کہ جی-20 کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت نے انسداد دہشت گردی کے ساتھ ساتھ افغانستان میں انسانی بنیادوں پر بین الاقوامی مدد کی فراہمی کی کوششوں پربات چیت کا تعمیری موقع فراہم کیا۔

جی ٹوئنٹی کا ورچوئل اجلاس ایک ایسے وقت پر منعقد کیا گیا، جب افغانستان کو امریکی فوج کے انخلا اور طالبان کے ملک پر قبضے کے بعد شدید انسانی بحران کو سامنا ہے۔ اگست کے اواخر کے بعد دنیا کی امیر معیشتوں کے سربراہان کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس تھا۔

اجلاس میں چین اور روس کے رہنما شریک نہیں ہوئے، جو امریکہ کے اہم حریف اور افغانستان سے جغرافیائی قربت رکھنے والے ممالک ہیں۔ روس اور چین دونوں کے افغانستان کے ساتھ تعلقات طویل اور پیچیدہ رہے ہیں، اور وہ افغانستان کے لئے امداد پر شرائط لگانے کے مخالف ہیں۔

گزشتہ ہفتے امریکہ کے اعلیٰ سطحی عہدے دار قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اکٹھے ہوئے جہاں انھوں نے طالبان کے ساتھ بالمشافہ مذاکرات کا پہلا دور مکمل کیا۔ کسی بھی فریق نے یہ نہیں بتایا کہ کوئی سمجھوتا طے پایا، واضح رہے امریکہ سرکاری طور پر طالبان کو افغانستان کی جائز حکومت کے طور پر تسلیم کرنے سے احتراز کرتا ہے۔

عالمی سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترس نے خبردار کیا کہ اس وقت افغانستان کو ایک آزمائش کا سامنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر ہم اس مشکل مرحلے پر افغان عوام کی بر وقت مدد کرنے میں تاخیر سے کام لیتے ہیں تو نہ صرف ان کی مشکلیں مزید بڑھیں گی بلکہ ہمیں بھی اس کی بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔

طالبان کے اقتدار پر قبضے سے قبل افغانستان کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری 75 فی صد امداد فراہم کرتی رہی ہے۔ لیکن، تمام ملکوں اور بین الاقوامی تنظیموں نے یہ امداد بند کر دی ہے اور ساتھ ہی افغانستان کے اثاثے منجمد ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے امور سے متعلق رابطے کے دفتر نے کہا ہے کہ اب افغانستان کی تقریباً نصف آبادی انسانی ہمدردی کے تحت امداد یا زندگی بچانے کے لیے درکار اعانت کی منتظر ہے۔ اس وقت افغان عوام کی ایک تہائی آبادی کو ہنگامی یا بحرانی نوعیت کی خوراک کی عدم دستیابی کا مسئلہ درپیش ہے۔
یونیسیف کے ترجمان، سلام الجنابی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ”یہ لمحہ ایسا نہیں ہے کہ ہم افغانستان کے بچوں کو بے سہارا چھوڑ دیں۔ یہ وقت نہیں کہ ہم یہاں کی صورت حال سے منہ موڑ لیں۔ زندہ رہنے کے لیے انھیں امداد درکار ہے۔ ان بچوں کے لیے بنیادی طور پر یہ زندگی اور موت کا سوال ہے، جنھیں شدید طور پر غذائی قلت کا سامنا ہے”۔

افغانستان کی صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے، یہ اہم عالمی اجلاس اٹلی کے وزیر اعظم ماریو دراگی نے منعقد کیا تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں