بھارت: خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ

بھارت کے قومی خواتین کمیشن کا کہنا ہے کہ سال 2020میں اسے خواتین کے خلاف جرائم کی 23 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں جو گزشتہ چھ برسوں میں اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
بھارت کے قومی خواتین کمیشن کے مطابق کورونا وائرس کے سبب لاک ڈاون کے دوران خواتین کے مصائب میں مزید اضافہ ہوا اور انہیں گھریلو تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ سال 2020کے دوران خواتین کے خلاف جرائم کے مجموعی طورپر 23722شکایتیں درج کرائی گئیں۔
بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش میں لڑکیوں اور خواتین کے خلاف تشدد جو2015 میں 23.5 فیصد تھا،بڑھ کر 51 فیصد ہوگیا ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق ، 2018-19 میں اسی عرصے میں جنسی تشدد 30 فیصد سے بڑھ کر 48 فیصد ہو گیا ہے۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سروے کے نتائج خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر جاری کیے گئے ۔
خواتین کمیشن کی رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ بھارتی خواتین اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ قومی خواتین کمیشن کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں تقریبا ایک چوتھائی گھریلو تشدد سے متعلق تھے۔
گوکہ خواتین کے خلاف ہونے والے گھریلو تشدد کے بیشتر واقعات پر ‘خاندان کی عزت کے نام پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے اور متاثرہ خواتین بھی مختلف اسباب کی بنا پر خاموشی اختیار کر لینے میں عافیت محسوس کرتی ہے تاہم اس کے باوجود سال2020میں گھریلو تشدد کی 5294 شکایتیں خواتین کمیشن کے پاس پہنچیں۔
قومی خواتین کمیشن کے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ برس خواتین کے خلاف جرائم کی سب سے زیادہ 11872 شکایتیں اترپردیش سے موصول ہوئیں۔ اس کے بعد بھارتی دارالحکومت دہلی سے 2635شکایتیں جب کہ ہریانہ اور مہاراشٹر میں بالترتیب 1266 اور 1188 شکایتیں موصول ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق 7708شکایتیں ‘باوقار زندگی گزارنے کا حق کی خلاف ورزی کی شق کے تحت درج کرائی گئیں۔ باوقار زندگی گزارنے کا حق کی خلاف ورزی کے تحت ان شکایتوں کا اندراج کیا جاتا ہے جن میں متاثر ہ خاتون جذباتی استحصال کی شکایت کرتی ہے۔
قومی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن ریکھا شرما کا اس حوالے سے کہنا تھا کہاقتصادی عدم تحفظ، تنا میں اضافہ، پریشانی، مالیاتی فکرمندی اور والدین یا کنبے کی طرف سے جذباتی حمایت کی کمی کے سبب سن 2020میں گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا۔”
Violence Against Women in India Must End. Now.ریکھا شرما کا مزید کہنا تھا گزشتہ برس کورونا کی وجہ سے لاک ڈاون کے سبب میاں بیوی کے لیے گھر ہی دفتر بن گیا اورحتی کہ ان کے بچوں کے لیے اسکول اور کالج بھی۔ اس دوران خواتین کو گھر سے دفتری کام کرنے کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے اور گھریلوکام بھی کرنے پڑے۔ اس لیے گزشتہ چھ برسوں میں خواتین کے خلاف تشدد کی سب سے زیادہ شکایتیں سال 2020میں درج کی گئیں۔ اس سے پہلے سال 2014میں کمیشن کو 33906شکایتیں موصول ہوئی تھیں۔”
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارچ میں بھار ت میں لاک ڈاون کے بعد سے قومی خواتین کمیشن کے پاس گھریلو تشدد کی شکایتوں کی بھرمار ہوگئی۔ خواتین کے پاس اس دوران گھر سے باہر جانے کا کوئی متبادل نہیں تھا اور انہیں گھرپر تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ جولائی کے مہینے میں گھریلو تشدد کی سب سے زیادہ 660شکایتیں موصول ہوئیں۔
ریکھا شرما کا کہنا تھا، کوِوڈ 19کے سبب لاک ڈاون کی وجہ سے خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کے معاملات کی شکایت درج کرانے کا موقع کم ہوگیا۔ خواتین کو گھریلو تشدد سے تحفظ فراہم کرنے والے قانون کے تحت کام کرنے والی مشنری کو لاک ڈاون کے دوران لازمی خدمات کے زمرے میں نہیں رکھا گیا تھا، جس کی وجہ سے حکام اور غیر سرکاری تنظیموں کے اہلکار متاثرین کے گھر نہیں پہنچ سکے۔”
آبادی کونسل کے مطابق اترپردیش ملک کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے۔یو ڈی اے ای اے این جی او کا سروے اترپردیش میں 2015-16 میں 10ہزار سے زائد نوعمروں پر کیا گیا تھا۔ انہی افراد کا 2018-19 میں دوبارہ انٹرویو لیا گیا ۔
تحقیق کے مطابق ، شادی شدہ لڑکیوں کی تعداد جنہوں نے کبھی سروے کے دوران جذباتی ، جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا کیا ، حصہ لیا۔
مطالعے میں کہا گیا ہے کہ 2015-16 میں جذباتی تشدد 19 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا ، جو بڑھ کر 35 فیصد ہو گیا ہے۔
اس تحقیق میں موبائل فون / انٹرنیٹ پر ہراساں کیے جانے کی بھی رپورٹ ہے۔تاہم ، اس تحقیق میں یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ وقت کے ساتھ نوعمر لڑکیوں میں صنفی امتیازی سلوک کم ہوا ہے۔ 2015 میں 15 سے 19 سال کی عمر کی لڑکیوں کے ساتھ صنفی امتیازی سلوک2018 میں23 فیصد میںسے بہتر ہوکر 18 فیصد ہوگیا۔
اترپردیش کے علاوہ ، یہ مطالعہ بہار میں بھی کیا گیا ہے۔بھارت اور نوجوانوں کی آبادی کا 25 فیصد یوپی اور بہار پر مشتمل ہے۔
دونوں ریاستوں میں ملاکر نوعمروں کی آبادی ، کل آبادی کا ایک چوتھائی حصہ ہے۔ نیز ، دونوں ریاستوں میں کم عمری میں شادی ، جنسی اور تولیدی صحت کے خطرات جیسے خطرات زیادہ ہیں ، پاپولیشن کونسل کا کہنا ہے کہ وہ اپنا مطالعہ دوسری ریاستوں تک بھی بڑھانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں