ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

این سی او سی نے بوسٹر ڈوز کیلئے عمر کی حد کو مزید کم کردیا

اومیکرون کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنل سینٹر (این سی او سی) بوسٹر لگوانے کی عمر میں مزید کمی کردی۔

این سی او سی کی جانب سے ٹوئٹ کیا گیا جس میں کہا گیا کہ آج ہونے والے سیشن میں این سی او سی نے بوسٹر خوراک کے لیے عمر کی حد کو مزید کم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 18 سال سے زیادہ عمر کے شہری اپنی ویکسین کے مطابق یا مکس بوسٹر کی مفت خوراک لگوانے کے اہل ہوں گے۔

این سی او سی نے ہدایت کی کہ بوسٹر (ایک خوراک) مکمل ویکسینیشن کے 6 ماہ کے وقفے کے بعد دی جائے گی۔

یاد رہے اس سے قبل این سی او سی کی جانب سے 30 سال سے زائد عمر افراد یا بیرون ملک سفر کرنے والوں کو مفت بوسٹر لگانے کی اجازت دی گئی تھی۔

12سال سے زائد عمر کے 50 فیصد افراد ویکسین لگواچکے ہیں، ڈاکٹر فیصل سلطان

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ ویکسی نیشن کا مقررہ ہدف 30 دسمبرکو مکمل ہوا جس میں 12 سال سے زائد عمر 50 فیصد افراد کو ویکسین لگائی جاچکی ہے۔

لاہور میں ای پی آئی پروگرام کی تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا بچے ہمارے لیے ایک ہی ہیں، ہم نے ان کا اکٹھے دھیان رکھنا ہےاور بچے تمام معاشرے کے یکساں اثاثے ہیں، یہ ہمارا مستقبل ہیں۔

ای پی آئی وہ پروگرام ہے جس کے تحت پورے ملک میں حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتیں اپنے الگ الگ پروگرام چلاتی ہیں لیکن صحت کی مہم کے لیے تمام صوبے ایک ساتھ ہیں، صحت کے پروگرام کو اکٹھا لے کر چلتا آپ سب کے لیے باعث فخر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پچھلے دنوں میزلز کے حوالے سے ایک مہم چلائی گئی تھی، جس میں 9 کروڑ لاکھ بچوں کو ٹیکے لگائے گئے، یہ اتنی بڑی مہم تھی کہ دنیا کے بڑے ممالک نے بھی ایسے ایک مرحلے میں کرنے کا حوصلہ نہیں کیا تھا، لیکن ہم نے نہ صرف اسے شروع کرنے کا حوصلہ کیا بلکہ اس کو مکمل بھی کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں جب کوئی آفت آئی اور ہم نےتہیہ کیا کہ ہم اس کا مقابلہ کریں گے تو ہم نے اس کا مقابلہ کیا ہے۔

فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہمارے پاس قابلیت ہے، ہمیں اس قابلیت کا استعمال کرنا، منصوبہ بندی کرنی ہے اور اپنا مقصد اعلیٰ سطح پر رکھنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہترین منصوبہ بندی اور نگرانی کے بعد ہمارے ویکسی نیشن کے سسٹم میں 10 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، اکثر لوگوں کو احساس نہیں ہے کہ اتنی منصوبہ بندی کی پیچھےکتنی باریک بینی سے منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ہم ویکسین کی مہم شروع کرتے ہوئے ہدف مختص کیا تھا تو لوگ مذاق اڑا رہے تھے، لیکن جب ہم ہدف مقرر کردیں تو اسے حاصل کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، بس ہمیں محنت کرنی ہوتی ہے، آپ کے سامنے ہے کہ ہم نے 31 دسمبر کے لیے 7 کروڑ ویکسین کا ٹارگٹ مقرر کیا تھا جو 30 دسمبرکو مکمل ہوگیا۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ 12 سال سے زائد عمر کی 50 فیصد سے زائدآبادی مکمل طور پر ویکسین لگوا چکے ہیں، یہ ایک اہم سنگ میل ہے، ایسے کئی سنگ میل ہم سر کرنے ہیں۔

کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کورونا کے کیسز میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔

پولیو کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پولیو کے قطرے پلانے کے حوالے سے ہم بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن خیبرپختونخوا کے کچھ حصے ایسے ہیں جہاں پولیو مہم کے حوالے سے ہمیں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی حکومت کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو تحفظ فراہم کرے، ویکسی نیشن پروگرام میں بھی ایسا ہی ہوا، ہم نے طبقات، رنگ و نسل کا فرق کیے بغیر ویکسین لگوائی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ صحت کارڈ ایک انقلابی اقدام ہے، جس میں آپ کی صحت سے متعلق 10 لاکھ تک کے اخراجات حکومت اٹھائی گی، سارے دنیا میں مختلف صورت میں اس ہی طرح کے انشورنس دیے جاتے ہیں کیونکہ صحت کے اخراجات برداشت ایلیٹ کلاس کے علاوہ کسی بھی طبقے کے لیے مشکل ہے، اس سے کئی مہینوں کا بجٹ ہل جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ بے شمار انقلابی اقدامات کیے جارہے ہیں جس کا تعلق شعبہ صحت کی اصلاحات سے ہے، بپلک سیکٹر کے ہسپتالوں کے لیے میڈیکل ٹیچنگ ایکٹ لایا گیا، اس کا مطلب سرکاری ہسپتالوں کی بہتر کارکردگی ہے۔

اس ہی طرح جو ہمارے پیشہ ور ہیلتھ کیئر ریگولیٹرز ہیں، پاکستان میڈیکل کمیشن نے نئے ڈاکٹرز کے معیار میں بہتری کے لیے ایم ڈی کیٹ کا امتحان لیا جو ایک یکساں سسٹم کے تحت الیکٹرانک ٹیسٹ ہوا، اس کے بعد نیشنل لائسنسنگ امتحان ہوا، اس پر بھی بہت شور ہوا لیکن اس کے ذریعے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگیا۔

کورونا کی پانچویں لہر: کراچی میں کیسز کی شرح میں ہوشربا اضافہ

کراچی میں کورونا کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے اور شہر میں چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا کیسز کی شرح 28.8 فیصد پر پہنچ گئی۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران صوبے میں وبا کے 2 ہزار 289 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 2 ہزار 81 کیسز کا تعلق کراچی سے ہے۔

سندھ میں کورونا وبا سے متاثر مزید 2 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

بیان میں کہا گیا کہ سندھ میں 172مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 14مریض وینٹی لیٹر پر زیر علاج ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے 95 فیصد ’اومیکرون‘ ویرینٹ کے ہیں، شہریوں سے اپیل ہے کہ فوری ویکسی نیشن کروائیں اور بوسٹر ڈوز لگوائیں۔

شہروں میں سب سے زیادہ کیسز کی فہرست میں لاہور شہر 9.6 فیصد شرح کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، اس کے بعد اسلام آباد میں یہ شرح 5.5 فیصد ہے۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیگر تمام بڑے شہروں میں مثبت کیسز کی شرح 5 فیصد سے کم ہے۔

پاکستان میں کورونا کیسز کی شرح 7.36 فیصد تک پہنچ گئی
گزشتہ چوبیس گھنٹوں کےدوران ملک بھر میں 3 ہزار 576 کیسز سامنے آئے جس کے بعد مثبت کیسز کی شرح 7.36 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

موذی وبا سے متاثر مریضوں کی کُل تعداد 13 لاکھ 15 ہزار 834 ہو چکی ہے۔

کورونا سے متاثر مزید 7 افراد کے انتقال کے بعد ملک بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 28 ہزار 999 ہوگئی ہے۔

پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران صوبوں میں کیسز اور اموات کے اعداد و شمار یہ ہیں:

سندھ: 2 ہزار 321 کیسز، 2 اموات

پنجاب: 843 کیسز، ایک موت

خیبرپختونخوا: 90 کیسز، 4 اموات

بلوچستان: 7 کیسز

اسلام آباد: 299 کیسز

آزاد کشمیر: 7 کیسز، ایک موت

گلگت بلتستان: 4 کیسز

50 فیصد اہل آبادی کی مکمل ویکسینیشن

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے اپنی ایک ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ ملک بھر میں 12 سال سے زائد عمر کی اہل آبادی میں سے 50 فیصد کی مکمل ویکسی نیشن ہوچکی ہے۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے لکھا کہ ملک بھر میں کورونا کیسز میں تیزی سے اضافے کے پیش نظر ہمیں ہر جگہ، خصوصاً انڈور مقامات پر ماسک کی پابندی کا خیال رکھنا چاہیے۔

تین روز قبل پاکستان نے 10 کروڑ افراد کو ویکسین کی کم از کم ایک خوراک لگا کر ویکسی نیشن مہم کا اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔

شہروں میں ویکسی نیشن کی شرح میں کراچی اب بھی پیچھے ہے، شہر کی 40 فیصد سے زائد آبادی نے اب تک ویکسین کی پہلی خوراک نہیں لگوائی ہے۔

وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے بھی لوگوں کی ایک غیر معمولی تعداد کو ابھی تک ویکسین کی پہلی خوراک نہ لگنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

اجلاس میں ویکسی نیشن مہم کو مؤثر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کا فیصلہ کیا گیا تھا اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والے شادی ہالز، شاپنگ مالز اور فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا گیا۔

اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا تھا کہ گھر گھر جاکر شہریوں اور بالخصوص گھریلو خواتین کو ویکسین لگانے کے لیے منصوبہ تشکیل دیا جائے گا، جس کے لیے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

پہلے مرحلے میں مہم کا مرکز کراچی، سکھر اور لاڑکانہ ہوگا، دوسرے مرحلے میں دوبارہ کراچی سمیت حیدر آباد اور شہید بینظیر آباد میں ویکسی نیشن مہم چلائی جائے گی۔

سائنٹیفک ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا تھا کہ ملک بھر میں کیسز میں یہ اضافہ غیر متوقع نہیں کیونکہ لوگ ‘وبائی بیماری کی تھکاوٹ’ کا شکار تھے اور انہوں نے وائرس کو منتقل ہونے اور تبدیل ہونے کا ہر موقع فراہم کیا۔

انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد ویکسین لگوائیں کیونکہ ‘ڈیلٹاکرون’ ویریئنٹ، جس میں کورونا وائرس کے ڈیلٹا اور اومیکرون دونوں قسموں کی خصوصیات شامل ہیں، قبرص میں رپورٹ ہوئی ہے اور یہ بھی جلد یا بدیر پاکستان پہنچ جائے گی۔

منبع: ڈان نیوز

The post این سی او سی نے بوسٹر ڈوز کیلئے عمر کی حد کو مزید کم کردیا appeared first on شفقنا اردو نیوز.

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں