ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

‘ایمرجنسی لگا کر قومی اسمبلی کی مدت کو ایک سال تک بڑھایا جا سکتا ہے’

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما فواد چودھری کی ضمانت مشکل نظر آ رہی ہے کیونکہ انہوں نے کھل کر بغاوت کا جرم کیا ہے۔ تعزیرات پاکستان کے آرٹیکل 153-A میں 7 سال قید اور بغاوت کے جرم میں عمر قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ اس طرح کے مقدمات میں ملک کے حالات کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ حالات سے لگ رہا ہے کہ قومی اسمبلی کے الیکشن وقت پر نہیں ہوں گے۔ ایمرجنسی لگا کر اس کی مدت کو ایک سال تک بڑھایا جا سکتا ہے اور فواد چودھری کی گرفتاری اسی سلسلے کی تیاری کا پہلا مرحلہ دکھائی دے رہی ہے۔ یہ کہنا ہے قانون دان اویس بابر کا۔

نیا دور ٹی وی کے ٹاک شو ‘خبر سے آگے’ میں گفتگو کرتے ہوئے اویس بابر نے کہا کہ قانون کے اعتبار سے فواد چودھری نے لوگوں کو بغاوت پر اکسایا ہے۔ گورنر سلمان تاثیر کے قاتل کو بھی کسی نے قتل پر اکسایا تھا۔ جب آپ کسی کے خاندان کے خلاف لوگوں کو اکساتے ہیں تو یہ جرم قرار پاتا ہے۔ فواد چودھری پر جو پہلے سے کیس چل رہا ہے اس میں شاہ محمود قریشی اور اسد عمر بھی شامل ہیں مگریہ نیا کیس الگ نوعیت کا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے ملک میں شخصیت پرستی کا ایک مسلک بنایا تھا جو فواد چودھری جیسے لوگوں کی گرفتاری سے ختم نہیں ہوگا، اس میں وقت لگے گا۔

صحافی تجمل بخاری نے کہا کہ فواد چودھری کو کافی دیر تک لاہورکی سڑکوں پر گھمایا جاتا رہا، فرخ حبیب ان کی گرفتاری پر مزاحمت کرتے رہے۔ لاہور ہائیکورٹ میں آئی جی پنجاب نے پیش ہو کر بتایا کہ ان کے علم میں یہ گرفتاری نہیں تھی ورنہ وہ ان کو عدالت میں پیش کر دیتے۔ زمان پارک میں لوگ اپنے خاندانوں کے ساتھ موجود تھے اور ان کے جذبات کافی برانگیختہ تھے۔ حکومت کے لیے آسان نہیں ہے کہ عمران خان کو گرفتار کرے۔

صحافی سجاد انور نے کہا کہ جب سے پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہوئی ہے انہوں نے اسٹیبلشمنٹ اور پی ڈی ایم کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کیا ہوا ہے۔ اس وقت تحریک انصاف اپنے آپ کو پاکستان کی سب سے بڑی اینٹی اسٹیبلشمنٹ پارٹی کے طور پر متعارف کروانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تحریک انصاف کو کھلا میدان ملا ہوا ہے۔ فواد چودھری ہر معاملے پر کھل کے سامنے آتے تھے تو لگتا تھا کہ ان کے پیچھے کوئی طاقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے سال مارچ اپریل میں ن لیگ پنجاب کی سب سے بڑی پارٹی تھی۔ جب سے پی ڈی ایم کی حکومت بنی ہے ان کی پیپلزپارٹی کی طرح پنجاب سے ہوا اکھڑ گئی ہے۔ ن لیگ اگر اچھے طریقے سے اپنے کارڈ کھلیے تو وہ حالات کو اپنے حق میں تبدیل کر سکتی ہے۔ ن لیگ کے اندر حمزہ اور مریم کے گروپوں کو اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے۔ جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر اور سنٹرل پنجاب میں اچھے امیدوار لا کر تحریک انصاف کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

تجزیہ نگار فوزیہ یزدانی نے کہا کہ کسی بھی ادارے کی اتنی انا نہیں ہونی چاہئیے کہ کسی کے بیان سے ان کی انا کو نقصان پہنچے تاہم الیکشن کمیشن کے افسران کے خاندان کو کافی عرصے سے دھمکیاں مل رہی تھیں جس کی وجہ سے وہ خوف زدہ تھے۔ پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پہ سب کو ڈرانا دھمکانا اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔ فواد چودھری کی گرفتاری کی مذمت کرنی چاہئیے، اس طرح کے واقعات سے معاشرے میں تقسیم بڑھ رہی ہے۔

مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ فرخ حبیب نے اپنے اقدام سے کار سرکارمیں مداخلت کرنے کی کوشش کی۔ عمران خان اور ان کی جماعت کا یہ ٹریک ریکارڈ ہے کہ وہ افسران کو دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ عمران خان نے جج زیبا چودھری کو بھی خطرناک دھمکیاں دی تھیں۔

پروگرام کے میزبان رضا رومی تھے۔ ‘خبر سے آگے’ ہر پیر سے ہفتے کی رات 9 بج کر 5 منٹ پر نیا دور ٹی وی سے براہ راست پیش کیا جاتا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں