ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ڈبلیو ایچ او رپورٹ/معمر اور معذور خواتین کو بدسلوکی کا زیادہ خطرہ

معمر اور جسمانی معذوری کا شکار خواتین کو بدسلوکی کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے تاہم بیشتر ممالک میں تشدد کے متاثرین سے متعلق اعدادوشمار میں انہیں عموماً نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ایک جائزے کے مطابق، جسمانی معذور خواتین کو اپنے شریک حیات مرد کی جانب سے تشدد کا سامنا کرنے کے خدشات دیگر کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور جائزے سے یہ سامنے آیا ہے کہ ایسی خواتین کی نمایاں تعداد جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنتی ہے۔
ادارے نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس حوالے سے مزید تحقیق کریں تاکہ تشدد کا سامنا کرنے والی ان خواتین کے بارے میں درست اعدوشمار کی دستیابی یقینی ہو اور اس طرح ان کی مخصوص ضروریات کو سمجھا اور انہیں پورا کیا جا سکے۔

تحقیق میں نظرانداز

‘ڈبلیو ایچ او’ کے مطابق معمر اور جسمانی معذوری کا شکار خواتین کی بڑی تعداد صنفی بنیاد پر تشدد کا سامنا کرتی ہے۔
ان رپورٹوں کی مصنفہ اور ڈبلیو ایچ او میں خواتین کے خلاف تشدد سے متعلق اعدادوشمار کی ماہر ڈاکٹر لین میری ساردینا نے کہا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد سے متعلق دستیاب تحقیق میں معمر اور معذور خواتین کے بارے میں بہت کم معلومات ملتی ہیں۔ اس طرح ان کی مخصوص ضروریات کی تکمیل کے پروگراموں کی افادیت کمزور پڑ جاتی ہے۔

فرق کا ادراک

ان کا کہنا ہے کہ ہر طرح کے تشدد کا خاتمہ کرنے کے لیے متنوع پس منظر کی خواتین اور لڑکیوں پر تشدد کے مختلف انداز مرتب ہونے والے اثرات اور تحفظ کی خدمات تک ان کی رسائی کے امکانات اور طریقوں کو سمجھنا ضروری ہے۔
شریک حیات کے ہاتھوں اور جنسی تشدد دنیا بھر میں صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کی عام ترین قسم ہے اور اس سے ایک تہائی خواتین متاثر ہوتی ہیں۔
معمر اور جسمانی معذوری کا شکار خواتین کو دیگر طرح کی بدسلوکی کے مخصوص خطرات کا سامنا بھی ہوتا ہے اور بعض اوقات ان کی نگہداشت کرنے والے لوگ یا معالجین ہی اس کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ایسے تشدد میں ادویات اور مددگار آلات کو روکنے یا نگہداشت سے محروم رکھنے اور مالیاتی مسائل کا شکار کرنے جیسا جابرانہ اور حاکمانہ طرز عمل بھی شامل ہے۔
شفقنا اردو
اتوار، 31 مارچ 2024
نوٹ: شفقنا نے یہ رپورٹ یو این سے لی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں