نیویارک: سلامتی کونسل میں امریکی چہرہ ایک بار پھر عیاں ہوگیا، غزہ جنگ بندی کی قرارداد کی منظوری رکوا کرامریکا نے چوتھی بار ویٹو کردیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) میں 10 منتخب ممالک نے غزہ جنگ بندی کی قرارداد پیش کی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ غزہ میں غیر مشروط، فوری اور مستقل جنگ بندی کی جائے، قرارداد کے حق میں 10 منتخب ممالک کے علاوہ 4 مستقل ممالک نے بھی ووٹ دیا تاہم امریکا نے غزہ کی پٹی میں “فوری، غیر مشروط اور مستقل” جنگ بندی کے مطالبے کو ایک بار پھر ویٹو کردیا۔
واضح رہے کہ امریکا 7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے دوران پہلےبھی 3 بار جنگ بندی کی قراردادوں کو ویٹو کر چکا ہے، سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرارداد 11 بار پیش کی جاچکی ہے۔
خیال رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے فلسطینی سرزمین پر اسرائیل جارحانہ بمباری کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں اب تک تقریباً 44 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں 17 ہزار 400 سے زائد بچے ہیں جبکہ ایک بڑی تعداد خواتین کی بھی شامل ہے۔
