فوج کیخلاف آواز پر مزاحمت کریں گے، دفاعِ وطن کے لیے تیار ہیں، حافظ طاہراشرفی
لاہور : چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی نے فوج کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کی تو اس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دفاعِ وطن، سلامتی اور استحکام کے لیے علماء، مدارس، محراب و منبر ہر سطح پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ اگر جہاد کے میدان میں ضرورت پیش آئی تو علماء صفِ اول میں کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے افغانستان کے علماء کی جانب سے جاری اعلامیے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب افغان حکومت کی ذمے داری ہے کہ اس پر عملی طور پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
انہوں نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی، جبکہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور یہی اس کی ترجیح ہے۔
چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے ملکی سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ آپس میں بیٹھ کر بات چیت کریں اور ملک کو دفاعی، معاشی اور داخلی طور پر مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گالی گلوچ اور نفرت آمیز رویے رکھنے والے عناصر ملک میں امن نہیں چاہتے۔
طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ **تمام مکاتب فکر کے مشائخ متفق ہیں کہ پرتشدد رویے ناقابلِ قبول ہیں اور علماء کا اصل ہدف ملک کو نظامِ مصطفیٰ ﷺ کی منزل تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے بعد ان پر تنقید اور حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ملک بھر میں نظامِ خلافتِ راشدہ سے متعلق سیمینارز کا انعقاد کیا جائے گا۔