اسرائیلی حملے میں حماس کے سینئر کمانڈر رائد سعد کی شہادت کی تصدیق
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے دوران اپنے ایک اہم اور سینئر کمانڈر رائد سعد کی شہادت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے، جسے حالیہ جنگ بندی کے بعد تنظیم کے لیے ایک بڑی اور نمایاں قیادت کا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہدایات پر ایک روز قبل اسرائیلی فوج نے غزہ شہر میں ایک گاڑی کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا تھا، اس حملے کے نتیجے میں پانچ فلسطینی شہید جبکہ پچیس سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔
عرب میڈیا کے مطابق حملے کے فوراً بعد اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ کارروائی کے دوران حماس کے ایک اعلیٰ سطح کے کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق حماس کے سربراہ خلیل الحیہ نے آج ایک ویڈیو بیان میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے دوران سینئر کمانڈر رائد سعد کی شہادت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔
اپنے ویڈیو بیان میں خلیل الحیہ نے اسرائیلی حملوں کو جنگ بندی معاہدے کی سنگین اور کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ پر بمباری اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ معاہدے کی روح کے منافی ہے، اسرائیلی کارروائیاں نہ صرف معاہدے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں۔
حماس کے سربراہ نے امریکا پر بھی زور دیا کہ وہ اسرائیل کو جنگ بندی معاہدے کی پابندی پر مجبور کرے اور غزہ میں جاری عسکری کارروائیوں کو فوری طور پر رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
رائد سعد کی شہادت کو اکتوبر میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد حماس کی اعلیٰ ترین عسکری قیادت کو پہنچنے والا سب سے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جس نے ایک بار پھر جنگ بندی کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
غزہ کے مقامی حکام کے مطابق اگرچہ 10 اکتوبر کو جنگ بندی نافذ کی گئی تھی، تاہم اس کے باوجود اسرائیلی فوج کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر حملے جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے بعد سے اب تک تقریباً 800 اسرائیلی حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جن کے نتیجے میں 386 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
ادھر اسرائیل پر غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈالنے کے الزامات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں، جنہیں فلسطینی حکام اور عالمی ادارے جنگ بندی معاہدے کی ایک اور سنگین خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ امداد کی بندش کے باعث غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے ایک قرارداد منظور کی تھی، جس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ غزہ میں بلا رکاوٹ انسانی امداد کی اجازت دے، اقوام متحدہ کی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے باز رہے اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کرے۔ اس قرارداد کے باوجود زمینی صورتحال میں کسی واضح بہتری کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔