عالمی حالات

سڈنی فائرنگ کیس: بونڈی بیچ حملہ آوروں کے داعش سے روابط کے دعوے سامنے آگئے

آسٹریلوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سڈنی کے علاقے بونڈی بیچ پر فائرنگ کرنے والے ملزمان داعش سے وفاداری کا اعلان کر چکے تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حملہ آوروں میں سے ایک شخص سے چھ سال قبل بھی داعش سے ممکنہ روابط کے شبہے میں تحقیقات کی گئی تھیں اور وہ اس وقت سے آسٹریلوی انٹیلی جنس ایجنسی کی نظر میں تھا۔

آسٹریلوی میڈیا رپورٹس کے مطابق جوائنٹ کاؤنٹر ٹیررازم ٹیم کا مؤقف ہے کہ نوید اکرم اور اس کے والد ساجد اکرم نے داعش سے وابستگی کا عہد کیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بونڈی بیچ حملے کے بعد ملزمان کی گاڑی سے داعش کے دو جھنڈے بھی برآمد ہوئے ہیں، جس کے بعد واقعے کے دہشت گردی سے جڑے ہونے کے خدشات مزید مضبوط ہو گئے ہیں۔

میڈیا کا کہنا ہے کہ نوید اکرم اس وقت پولیس کی نگرانی میں اسپتال میں زیر علاج ہے، جب کہ اس کے والد ساجد اکرم پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔ سکیورٹی ادارے واقعے کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ ممکنہ نیٹ ورک اور پس پردہ سہولت کاری کا پتا لگایا جا سکے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحلی علاقے میں مسلح افراد نے فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور موقع پر ہلاک ہوا جبکہ دوسرے کو شدید زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ ساحل پر منعقد یہودیوں کی ایک تقریب کے دوران پیش آیا تھا۔ پولیس نے پریس کانفرنس میں تصدیق کی کہ حملہ آور باپ بیٹا تھے، جن میں سے ایک مارا گیا جبکہ دوسرا اسپتال میں زیر علاج ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button