سڈنی فائرنگ واقعہ: بھارت اور افغانستان کی جانب سے پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم بے نقاب
بھارت اور افغانستان نے سڈنی میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کے لیے منظم پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے۔
بھارتی اور افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر سڈنی میں مقیم پاکستانی نوجوان نوید اکرم کو جھوٹے طور پر حملہ آور قرار دیا گیا، جس سے گمراہ کن تاثر پھیلانے کی کوشش کی گئی۔
نوید اکرم نے ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے اس پروپیگنڈے کو مسترد کر دیا اور کہا کہ ان کی تصویر اور نام استعمال کر کے جھوٹا بیانیہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا کسی بھی قسم کی دہشت گردی یا تشدد کے واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور اس بے بنیاد مہم نے ان کی ذاتی سلامتی اور ساکھ کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
نوید اکرم نے مطالبہ کیا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات کو فوری طور پر روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹی خبریں نہ صرف افراد بلکہ پوری کمیونٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحلی علاقے میں فائرنگ کے واقعے میں 16 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کی کارروائی میں ایک حملہ آور مارا گیا جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ آسٹریلوی حکام کے مطابق واقعہ دہشت گردی نہیں تھا اور حملہ آور باپ بیٹا نکلے، جس کے بعد مزید ملزمان کی تلاش ختم کر دی گئی۔
دوسری جانب آسٹریلوی میڈیا نے بتایا ہے کہ واقعے کے دوران ایک شہری احمد ال احمد نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک حملہ آور کو قابو کیا اور اس سے اسلحہ چھین لیا، جس سے کئی قیمتی جانیں بچ گئیں۔ 43 سالہ احمد ال احمد، جو سڈنی میں دکان پر پھل فروخت کرتے ہیں، خود بھی زخمی ہوئے تاہم ان کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔