واشنگٹن: بین الاقوامی قوانین کے 100 سے زائد ماہرین نے ایران پر کیے گئے امریکی اور اسرائیلی فوجی حملوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرائم قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں قانونی جواز سے مکمل عاری ہیں۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ماہرین نے اپنے ایک مشترکہ کھلے خط میں واضح کیا ہے کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی فوجی جارحیت کے لیے سلامتی کونسل سے پیشگی اجازت نہیں لی گئی۔ کسی بھی ملک کے خلاف طاقت کا استعمال صرف دفاعی ضرورت یا عالمی منظوری کا متقاضی ہوتا ہے۔
خط میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ امریکی حکام کے بیانات اور عسکری اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کے مسلمہ قوانین سے متصادم ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے کسی بھی قسم کے حملے کے بغیر یہ جارحانہ کارروائی کسی طور جائز نہیں۔
قانون دانوں نے زور دیا کہ کسی دوسری ریاست پر حملہ کرنے کے لیے ٹھوس ثبوت درکار ہوتے ہیں، جو اس معاملے میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔
یہ اقدام عالمی امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہے، جس کی ذمہ داری ان ممالک پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے یہ حملے کیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے کیونکہ طاقت کا بے جا استعمال خطے کو مزید عدم استحکام کی جانب دھکیل رہا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت کسی بھی ریاست کی خودمختاری کا احترام لازمی ہے، جسے ان کارروائیوں میں نظر انداز کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ماہرین کا یہ اقدام عالمی سطح پر ایک اہم قانونی نقطہ نظر سامنے لایا ہے۔
اس معاملے پر بڑھتی ہوئی بحث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جنگی ضوابط کی پاسداری ہر ملک کے لیے لازم ہے تاکہ عالمی نظام کے تحت انصاف اور امن کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے۔