اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کے لیے اعلیٰ سطحی وفود کی اسلام آباد آمد متوقع ہے، جہاں ہفتے کے روز باضابطہ بات چیت کا آغاز ہوگا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہوں گے جو ہفتے کی صبح اسلام آباد میں مذاکرات کریں گے۔
ترجمان کے مطابق ایران نے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی ہے اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے، ابتدائی تجاویز کو امریکا نے ناقابل قبول قرار دے کر مسترد کیا تھا، جس کے بعد ایران نے نئی تجاویز پیش کیں، امریکی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور آبنائے ہرمز کی کھلی حیثیت بدستور ایک اہم شرط ہے۔
کیرولین لیوٹ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے بھی رابطہ کیا جبکہ لبنان اس جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے اور اس حوالے سے علیحدہ بات چیت جاری رہے گی۔
دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں ایرانی صدر نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا اور شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔
ایرانی صدر نے اس موقع پر بتایا کہ ایران کا وفد بھی مذاکرات کے لیے اسلام آباد آئے گا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ایرانی وفد میں اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں جنگ بندی کو مستحکم بنانے، خطے میں کشیدگی کم کرنے اور اہم تنازعات کے حل کے لیے جامع حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔