کراچی: پرائیویٹ ایجوکیشنل نیٹ ورک کراچی کے زیر اہتمام ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں کور کمیٹی کے اراکین نے شرکت کرتے ہوئے تعلیمی صورتحال اور حالیہ پیش رفت پر تفصیلی غور کیا۔
اجلاس کے شرکاء نے وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز سندھ محمد اسماعیل راہو کی جانب سے امتحانی مراکز کے دوروں اور فوری احکامات کو سراہتے ہوئے اسے تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے مثبت اور حوصلہ افزا اقدام قرار دیا،ان اقدامات سے امتحانی نظام میں شفافیت اور نظم و ضبط کے فروغ میں مدد ملے گی۔
اجلاس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ امتحانات کے دوران بعض تجربہ کار اور ذمہ دار افسران کو معطل کر دیا گیا ہے، جن میں شیخ محمد طارق کریم (ڈپٹی کنٹرولر)، محبوب احمد جعفری (ریسرچ ایسوسی ایٹ) اور سید علی حیدر کاظمی (ڈیٹا انٹری آپریٹر) شامل ہیں۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب تعلیمی بورڈ پہلے ہی عملے کی کمی کا سامنا کر رہا ہو، ان افسران کی معطلی انتظامی مسائل کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ محبوب احمد جعفری اور طارق کریم جیسے افسران اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانتداری اور اچھی شہرت کے باعث ادارے کے لیے اہم اثاثہ ہیں۔ ان کی معطلی نہ صرف کارکردگی پر اثر انداز ہو سکتی ہے بلکہ دیگر ملازمین کے حوصلے کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
اجلاس میں متفقہ طور پر مطالبہ کیا گیا کہ امتحانات کے اس حساس مرحلے پر مذکورہ افسران کو فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ امتحانی عمل بلا رکاوٹ جاری رہ سکے اور طلبہ کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اجلاس کے اختتام پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی تعاون کے ساتھ کام کرنا ہوگا تاکہ شفاف اور منظم امتحانی ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔