ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

امریکا کا دفاعی بجٹ 42 فیصد بڑھا کر 4181 کھرب 27 ارب روپے کر دیا گیا

امریکی انتظامیہ نے مالی سال 2027 کے لیے دفاعی اخراجات میں 42 فیصد اضافے کی تجویز پیش کر دی ہے، جس کے بعد یہ منصوبہ ملکی تاریخ کے سب سے بڑے دفاعی اخراجات میں شمار کیا جا رہا ہے۔

پینٹاگون کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس مجوزہ بجٹ کا حجم 1.5 ٹریلین ڈالر سے زائد بتایا گیا ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 4 ہزار 181 کھرب 27 ارب روپے کے مساوی بنتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اس خطیر مالی منصوبے میں بحری جنگی جہازوں، جدید جیٹ طیاروں اور فضائی و میزائل دفاعی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مجموعی طور پر 750 ارب ڈالر مختص کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دفاعی ٹیکنالوجی اور جدید عسکری صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ بھی اس منصوبے کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بغیر پائلٹ فضائی نظام اور ان کے خلاف دفاعی نظام کی بہتری کے لیے 74 ارب ڈالر کی خطیر رقم مختص کرنے کی تجویز شامل ہے، جبکہ خلا میں دفاعی صلاحیت بڑھانے سے متعلق منصوبوں کے لیے 75 ارب ڈالر سے زائد رقم رکھی گئی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد خلا میں بھی دفاعی برتری کو یقینی بنانا بتایا جا رہا ہے۔

اسی طرح میزائل دفاعی نظام “گولڈن ڈوم” کے لیے 18 ارب ڈالر مختص کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے، جو امریکی دفاعی ڈھانچے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ امریکا اور میکسیکو سرحد کی سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے 2.3 ارب ڈالر کے فنڈ کی منظوری کی سفارش بھی اس مجوزہ منصوبے کا حصہ ہے۔

امریکی حکام کے مطابق یہ تمام اقدامات آئندہ برسوں میں دفاعی صلاحیت کو جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے خطرات کے مقابلے کے لیے کیے جا رہے ہیں، جن کا دائرہ بری، بحری اور فضائی تینوں محاذوں تک پھیلا ہوا ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • دانیال عدنان

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں