اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور صورتحال انتہائی دباؤ کا شکار ہے، حکومت آئندہ جمعہ کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا دوبارہ تعین کرے گی۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال نے نہ صرف خطے بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے، جس کے باعث ترقی کا سفر وقتی طور پر سست پڑ گیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ کرآسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جس کے باعث ملک کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے،پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات براہ راست عوام پر پڑتے ہیں، حکومت صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے سعودی عرب کے تعاون سے ساڑھے تین ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ بروقت ادا کیا ہے، جس پر وہ سعودی قیادت خصوصاً شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کے شکر گزار ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ عرصے میں پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں بھی کردار ادا کیا، جس کے لیے طویل اور مسلسل سفارتی کوششیں کی گئیں، اس عمل میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اور دیگر متعلقہ حکام نے اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کے باعث ملک کی معاشی رفتار متاثر ہوئی ہے اور پٹرولیم بل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو پہلے 300 ملین ڈالر تھا اور اب بڑھ کر 800 ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کفایت شعاری اور بچت کے اقدامات پر عمل پیرا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس بھی تشکیل دی گئی ہے جو معاشی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے، پاکستان کی معیشت بہتری کی طرف گامزن تھی، عالمی کشیدگی کے باعث کچھ مشکلات پیدا ہوئیں، لیکن حکومت پرعزم ہے کہ اجتماعی کوششوں سے صورتحال کو بہتر بنایا جائے گا۔
وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ خطے میں امن قائم ہوگا جس سے پاکستان کا ترقی اور خوشحالی کا سفر دوبارہ تیزی سے آگے بڑھے گا۔