ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

عدالت عظمیٰ:فارم 47 کے تحت کامیابی کالعدم قرار

 اسلام آباد:عدالت عظمیٰ نے ووٹ میں تبدیلی کو شب خون مار نے کے مترادف قراردے دیا۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ اور ووٹ کے تقدس میں کسی بھی قسم کی مداخلت یا غیر قانونی تبدیلی جمہوریت کی روح کے خلاف ہے۔

 میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت عظمیٰ نے این اے 251 کیس کا فیصلہ جاری کردیا اور این اے 251 سے خوشحال خان کاکڑ کو کامیاب امیدوار قرار دے دیا۔

 یہ فیصلہ عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے جاری کیا جس کی سربراہی جسٹس شکیل احمد نے کی، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس نعیم اختر افغان بھی بینچ کا حصہ تھے۔

 فیصلے میں سید سمیع اللہ کی کامیابی کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کردیا گیا، فیصلے میں فارم 45 کے نتائج میں دانستہ تبدیلی ثابت قرار دی گئی اور ریٹرننگ آفیسر کو بے اختیار قرار دیا۔

 عدالتِ عظمیٰ نے حلقہ این اے 251 کے انتخابی تنازع پر جاری کردہ تفصیلی فیصلے میں ریٹرننگ افسران کے کردار اور انتخابی نتائج کی شفافیت پر سخت مشاہدات دیے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ یہ کیس بلوچستان کے حلقہ این اے 251 سے متعلق تھا جہاں انتخابی نتائج (فارم 47 کی تیاری) کے دوران بے ضابطگیوں اور ووٹوں کی گنتی میں تبدیلی کے الزامات سامنے آئے تھے۔

عدالت عظمیٰ نے اس معاملے کی سماعت کے بعد اب اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے جس میں انتخابی عمل کے نقائص کی نشاندہی کی گئی ہے،عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کئی ایسے اصول وضع کیے ہیں جو مستقبل کے انتخابات کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

عدالت نے تحریر کیا ہے کہ عوام کا ووٹ ان کی امانت ہے اور اس میں کوئی بھی ایسی تبدیلی جو ووٹر کی منشا کے خلاف ہو، عوامی خواہشات پر شب خون مارنے کے مترادف ہے، آر او کا کام محض اعداد و شمار جمع کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر فارم (فارم 45) کی بنیاد پر درست نتیجہ مرتب کیا جائے۔

 اگر آر او اپنی ذمہ داری میں کوتاہی کرتا ہے تو وہ براہِ راست آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے، اگر پولنگ سٹیشن کے اصل نتائج (فارم 45) اور حتمی نتیجے (فارم 47) میں واضح فرق ہو اور اس کی منطقی وضاحت موجود نہ ہو تو ایسا نتیجہ مشکوک تصور کیا جائے گا۔

عدالت نے قرار دیا کہ انتخابی عذر داریوں کا مقصد ہی یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی دھاندلی کا شبہ ہو، وہاں حقائق کو سامنے لایا جائے۔

 ٹریبونلز کو چاہیے کہ وہ انتخابی شکایات کا فیصلہ محض تکنیکی بنیادوں پر نہ کریں بلکہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ووٹوں کی مکمل چھان بین کریں، جہاں کہیں ریکارڈ میں ٹیمپرنگ (رد و بدل) ثابت ہو، وہاں ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

  • ویب ڈیسک
  • Faiz alam babar

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں