بیروت: جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران امدادی کارکنوں کو نشانہ بنانے کے واقعے پر لبنانی حکومت نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے کھلا ’’جنگی جرم‘‘ قرار دے دیا ہے جبکہ حملے میں کم از کم 5 افراد شہید ہوگئے جن میں 3 امدادی کارکن بھی شامل ہیں۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب اسرائیلی طیاروں نے جنوبی لبنان کے ایک رہائشی علاقے میں واقع عمارت کو نشانہ بنایا۔ ابتدائی حملے کے بعد امدادی ٹیمیں زخمیوں اور متاثرین کو نکالنے کے لیے موقع پر پہنچیں، کچھ ہی دیر بعد اسی مقام پر دوسرا فضائی حملہ کردیا گیا، جس کے نتیجے میں امدادی اہلکار ملبے تلے دب گئے۔ بعد ازاں حکام نے 3 امدادی کارکنوں سمیت 5 افراد کی شہادت کی تصدیق کردی۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق پہلا حملہ رہائشی عمارت پر کیا گیا تھا جہاں متعدد خاندان موجود تھے۔ دھماکے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیموں، طبی عملے اور مقامی رضاکاروں نے امدادی کارروائیاں شروع کیں، لیکن دوسرے حملے نے صورتحال مزید سنگین بنادی، متعدد افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امدادی اداروں اور ریسکیو اہلکاروں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، ایسے حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں اور لبنان اس معاملے کو اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر اٹھائے گا۔
نواف سلام کا کہنا تھا کہ امدادی کارکن میدانِ جنگ میں انسانی جانیں بچانے کے لیے کام کرتے ہیں اور ان پر حملہ کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو شہریوں اور امدادی اہلکاروں پر حملوں سے روکا جائے۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے بھی اسرائیلی کارروائیوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا جاری رہنا خطے کے امن کے لیے خطرناک ہے، شہری آبادی، طبی مراکز اور امدادی ٹیموں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی مسلسل خلاف ورزی ہے۔
لبنانی فوج کے مطابق دوسرے حملے میں دو فوجی اہلکار بھی زخمی ہوئے، ایک فوجی گشتی ٹیم امدادی کارروائیوں میں مدد فراہم کر رہی تھی جب اسے بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
واضح رہے کہ امریکا کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں کشیدگی کم نہ ہوسکی ہے۔ اسرائیلی افواج وقفے وقفے سے فضائی حملے کر رہی ہیں جبکہ حزب اللہ بھی ان حملوں کے جواب میں راکٹ اور ڈرون حملے کر رہی ہے، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں صورتحال انتہائی کشیدہ بنی ہوئی ہے۔
لبنانی حکام کے مطابق مارچ کے بعد سے جاری اسرائیلی حملوں میں ہزاروں افراد شہید اور زخمی ہوچکے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں شہری بے گھر بھی ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی شہری آبادی اور امدادی اداروں پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب عالمی برادری کی خاموشی پر لبنان میں شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ سیاسی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر امدادی کارکن بھی محفوظ نہیں رہے تو خطے میں انسانی بحران مزید سنگین ہوسکتا ہے۔