ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

وائٹ ہاؤس میں ایران جنگ پر اختلافات، نائب صدر کو پینٹاگون کی بریفنگز پرتحفظات

واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان جاری آٹھ ہفتوں پر محیط جنگ میں شکست کے بعد اب وائٹ ہاؤس کے اندر سے بھی متضاد آوازیں سامنے آنے لگی ہیں جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جنگ کی صورتحال سے متعلق پینٹاگون کی بریفنگز پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

امریکی جریدے دی اٹلانٹک  کی رپورٹ کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس کو خدشہ ہے کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ کی اصل صورتحال کے بارے میں مکمل اور درست معلومات فراہم نہیں کر رہے، وائٹ ہاؤس کے بند کمرہ اجلاسوں میں جے ڈی وینس نے متعدد بار یہ سوال اٹھایا کہ آیا ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں سے متعلق پیش کی جانے والی کامیابی کی تصویر حقیقت پر مبنی بھی ہے یا نہیں۔

رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے صدر ٹرمپ کو بتایا جا رہا ہے کہ امریکی فوج نے ایرانی فضائیہ، بحریہ اور دفاعی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا ہے جبکہ امریکی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے، انٹیلی جنس رپورٹس اس دعوے سے مختلف تصویر پیش کر رہی ہیں، ایران اب بھی اپنی دو تہائی فضائیہ اور میزائل داغنے کی نمایاں صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کو خاص طور پر امریکی میزائل ذخائر میں تیزی سے کمی پر تشویش ہے، وینس سمجھتے ہیں کہ اگر اسی رفتار سے اسلحہ استعمال ہوتا رہا تو امریکا مستقبل میں چین، روس یا شمالی کوریا جیسے بڑے حریفوں کے خلاف ممکنہ تصادم کی صورت میں کمزور پڑ سکتا ہے۔

امریکی تھنک ٹینک ’’سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز‘‘ نے بھی خبردار کیا ہے کہ امریکا اپنے اہم ترین اسلحے کا تقریباً نصف حصہ استعمال کر چکا ہے، جو طویل المدتی دفاعی حکمت عملی کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

رپورٹ میں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے اندازِ بریفنگ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ٹیلی ویژن پس منظر رکھنے والے ہیگستھ بخوبی جانتے ہیں کہ ٹرمپ کس انداز کی گفتگو پسند کرتے ہیں۔ ایک سابق امریکی اہلکار کے مطابق پیٹ ہیگستھ اکثر صبح آٹھ بجے صدر کو بریفنگ دیتے ہیں، ایسے وقت میں جب صدر فاکس نیوز دیکھ رہے ہوتے ہیں اور وہ معلومات اسی انداز میں پیش کرتے ہیں جو صدر کو زیادہ پسند آئے۔

اگرچہ جے ڈی وینس نے عوامی سطح پر وزیر دفاع کی کارکردگی کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ وہ بہترین کام کر رہے ہیں، نجی ملاقاتوں میں وہ جنگی حکمت عملی، امریکی وسائل اور ممکنہ نقصانات کے حوالے سے سخت سوالات اٹھا رہے ہیں۔

جے ڈی وینس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ابتدا ہی سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے مخالف تھے۔ انہوں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ یہ جنگ خطے میں بڑے پیمانے پر تباہی، جانی نقصان اور سیاسی عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے، امریکا کو بیرونی جنگوں کے بجائے اپنے داخلی مسائل اور معیشت پر توجہ دینی چاہیے۔

رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ جے ڈی وینس اپنے سیاسی مستقبل کو بھی اس جنگ کے نتائج سے جڑا ہوا دیکھتے ہیں،وہ سمجھتے ہیں کہ 2028 کے صدارتی انتخابات میں ان کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار بڑی حد تک ایران جنگ کے انجام پر ہوگا۔ اسی تناظر میں انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں خود شرکت کی تاکہ کسی ممکنہ سفارتی حل کی راہ نکالی جا سکے۔

واضح رہےکہ ایران کی وہ چھوٹی اور تیز رفتار کشتیاں بھی اب تک فعال ہیں جو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے اور عالمی تجارتی راستوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں