اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کے نفاذ سے متعلق اہم ترین فیصلہ سنا دیا ہے جس کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے گزشتہ فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے 293 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 4C کے تحت سپر ٹیکس کا نفاذ مکمل طور پر آئینی اور قانونی ہے۔ یہ ٹیکس عام انکم ٹیکس کے علاوہ ہے اور اسے کسی صورت اس کا متبادل نہیں سمجھا جانا چاہیے بلکہ یہ الگ ٹیکس ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ کو انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت آمدنی پر ٹیکس عائد کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایف بی آر کو سرکلر جاری کرنے کا حکم دائرہ اختیار سے باہر تھا، لہذا عدالت نے اس حکم کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
فیصلے کے مطابق سیکشن 4C کا اطلاق ٹیکس سال 2022 اور اس کے بعد کے تمام برسوں پر ہوگا۔ یہ ٹیکس ان تمام آمدنیوں پر لاگو ہوگا جو علیحدہ ٹیکس رجیم میں آتی ہیں، جبکہ کیپٹل گین یعنی سرمایے میں اضافے پر بھی اسی سیکشن کے تحت سپر ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
پیٹرولیم اور ایکسپلوریشن کمپنیوں پر سپر ٹیکس کا نفاذ ان کے مخصوص معاہدوں اور قانونی حدود کے تابع ہوگا۔ فلاحی اداروں اور پنشن فنڈز کو سپر ٹیکس سے استثنیٰ حاصل کرنے کے لیے سرٹیفکیٹس کی تصدیق کروانا لازمی قرار دی گئی ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
عدالت نے قرار دیا کہ قانون سازی کے ذریعے ماضی سے ٹیکس لگانا قانونی طور پر جائز عمل ہے۔ مخصوص شعبوں پر زیادہ شرح سے ٹیکس لگانا امتیازی سلوک کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ یہ قانون سازوں کا صوابدیدی اختیار ہے جسے عدالت نے درست قرار دیا ہے۔
جہاں تک ٹیکس استثنیٰ کا تعلق ہے، جن آمدنیوں پر پہلے سے ٹیکس لاگو نہیں، ان پر سپر ٹیکس بھی لاگو نہیں ہوگا۔ جائیداد، شیئرز کی فروخت، وراثت، یا زرعی زمین سے حاصل آمدنی پر سپر ٹیکس لاگو نہیں ہوگا، جس سے عام شہریوں کو بڑی ریلیف ملے گی۔