ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

غزہ کے پناہ گزین کیمپوں میں درجہ حرارت بڑھتے ہی جلدی امراض کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوگیا

غزہ کے پناہ گزین کیمپ ایک نئے انسانی المیے کی زد میں آ گئے ہیں جہاں جِلدی امراض خطرناک حد تک پھیلنے لگے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی، ناقص صفائی اور گنجان آبادی کے باعث آنے والے دنوں میں صحت کا بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے، خصوصاً بچے اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے فلسطینی پناہ گزین ادارے کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران غزہ میں جِلدی بیماریوں کے مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ خارش، چیچک اور دیگر متعدی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں جبکہ متاثرین کی بڑی تعداد کم عمر بچوں پر مشتمل ہے جو انتہائی خراب حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق صرف 2024ء کے دوران کم از کم 1 لاکھ 50 ہزار افراد مختلف جِلدی بیماریوں میں مبتلا ہوئے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث ادویات، جراثیم کش مواد اور بنیادی طبی سامان کی قلت نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں بیماریوں پر قابو پانا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔

غزہ کے پناہ گزین فوزی النجار نے عرب نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ لاکھوں افراد تنگ اور آلودہ کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں صفائی کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ ان کے مطابق جگہ جگہ جمع کچرا، چوہے، کھٹمل، پسو اور آوارہ جانور بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافہ کر رہے ہیں جبکہ لوگ بنیادی انسانی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ مارچ کے مہینے میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام کیمپوں میں جِلدی امراض سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر تقریباً 10 ہزار تک پہنچ گئی، جبکہ جنوری میں یہی تعداد صرف 3 ہزار تھی، اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ یہ بحران مزید تباہ کن شکل اختیار کر سکتا ہے۔

دوسری جانب خان یونس میں طبی عملہ ہزاروں خیموں اور عارضی رہائش گاہوں میں جراثیم کش اسپرے کر رہا ہے تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے، تاہم امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ دواؤں، اسپرے اور طبی وسائل کی شدید کمی کے باعث تمام متاثرہ علاقوں تک رسائی ممکن نہیں رہی۔

طبی کارکنوں کے مطابق پناہ گزین کیمپوں میں بڑھتی ہوئی بھیڑ، صاف پانی کی قلت اور ناقص نکاسیِ آب نے صورتحال کو نہایت خطرناک بنا دیا ہے جبکہ بچوں اور بزرگوں کی بڑی تعداد مسلسل بیماریوں کا شکار ہو رہی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں فوری طبی امداد اور انسانی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ ایک بڑے انسانی سانحے کو روکا جا سکے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں