اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے باوجود لبنان پر حملے جاری ہیں، جن میں مزید 13 افراد شہید ہوگئے ہیں۔
بدھ کے روز اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے بعد پہلی بار لبنان کے دارالحکومت بیروت پر فضائی حملہ کیا۔ رپورٹس کے مطابق یہ حملہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے داحیہ میں کیا گیا، جو حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر میں شدید آگ اور کم از کم ایک عمارت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کے مناظر دکھائی دیے۔
اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے بیان میں کہا کہ اس کارروائی کی منظوری انہوں نے خود دی تھی اور حملے کا ہدف حزب اللہ کی ایلیٹ رضوان فورس کا ایک کمانڈر تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان کے شہر سکسکیہ پر بھی بمباری کی، جس کے نتیجے میں 5 افراد شہید جبکہ 15 زخمی ہوگئے۔
رپورٹس کے مطابق 17 اپریل کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات کو نشانہ بنایا، جبکہ بدھ کے روز لبنان بھر میں ہونے والے حملوں میں کم از کم 13 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
ادھر اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود لبنان میں انسانی صورتحال بدستور انتہائی غیر مستحکم ہے اور شہری مسلسل تشدد سے متاثر ہو رہے ہیں۔