واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ کے قریبی حلقوں نے ایران کے ساتھ ایک ایسے جوہری معاہدے کا خفیہ منصوبہ تیار کیا تھا جس کا مقصد تہران کی یورینیم افزودگی کی صلاحیت کو ایک طویل مدت تک محدود کر کے خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو اپنے پاس موجود ہائی لیول افزودہ یورینیم سے مکمل طور پر دستبردار ہونا تھا اور اسے اگلے 12 سے 15 برس تک یورینیم افزودگی کے عمل کو ایک مخصوص حد کے اندر ہی برقرار رکھنے کا پابند بنایا جانا تھا۔
اس اہم سفارتی مشن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ یہ فریم ورک صدارتی منظوری کے بعد تیار کیا گیا تھا تاکہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کی دوڑ سے دور رکھا جا سکے۔
اس ڈیل کے بدلے میں ایران کو تقریباً 20 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں تک فوری رسائی ملنی تھی۔ اس کے علاوہ ایران پر عائد سخت معاشی پابندیوں میں بھی نمایاں نرمی کی جانی تھی تاکہ ملک کی معیشت کو بحال کرنے میں مدد مل سکے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ منصوبہ حتمی شکل اختیار نہ کر سکا کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو سیاسی طور پر انتہائی حساس قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اتنی بڑی مالی رعایت دینے کا تاثر امریکی داخلی سیاست میں شدید ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔
سیاسی حلقوں میں یہ خدشہ پایا جاتا تھا کہ ایران کو معاشی ریلیف دینے سے امریکی حکومت کی سخت گیر ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی سیاسی حساسیت کے پیش نظر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس مجوزہ معاہدے کو مسترد کر دیا اور یہ اہم کوشش بار آور ثابت نہ ہو سکی۔
اس ناکام کوشش سے واضح ہوتا ہے کہ ایران اور امریکا کے مابین جوہری معاملات پر اعتماد سازی کی راہ میں کتنی بڑی رکاوٹیں حائل ہیں۔
مبصرین کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری اس کشیدہ صورتحال کے حل کے لیے اب بھی کوئی ٹھوس سفارتی راستہ تلاش کرنا ایک مشکل مرحلہ دکھائی دیتا ہے۔