تہران: چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ اہم ملاقات کی ہے، جس میں خطے کی صورت حال خصوصاً امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی میں کمی پر گفتگو کی گئی ہے۔
دریں اثنا وفاقی وزیر داخلہ نے بھی گزشتہ دنوں ایران کے 2 اہم دورے مکمل کیے ہیں، جن کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جاری تناؤ میں کمی لانا ہے۔
دارالحکومت آمد پر ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے آرمی چیف کا استقبال کیا، جہاں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔ اس سفارتی مشن کا مقصد مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں قیام امن اور خطے میں استحکام کے لیے ٹھوس پیش رفت کرنا ہے۔
Chief of Defence Forces Field Marshal Syed Asim Munir met Iran’s Foreign Minister Abbas Araghchi in Tehran for talks on informal developments and tactful efforts to de-escalate tensions, according to Iranian media.#AsimMunir #AbbasAraghchi #PakistanIranRelations… pic.twitter.com/4gQHDgrZPL
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 23, 2026
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق جنرل عاصم منیر نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات اور سیکیورٹی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں کسی بھی قسم کی جنگی کشیدگی کا مخالف ہے، یہی وجہ ہے کہ اس وقت تمام تر کوششیں سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل پر مرکوز ہیں۔
اس دوران ایرانی قیادت نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں اور کردار کو سراہتے ہوئے مثبت ردعمل دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران آرمی چیف نے اہم ایرانی شخصیات سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں ایران اور امریکا کے مابین پائی جانے والی غلط فہمیوں کے خاتمے اور بات چیت کے دروازے کھولنے پر غور کیا گیا تاکہ خطے کو کسی بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔
پاکستان کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی ایشیا میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ دفتر خارجہ اور عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ خطے میں امن و استحکام ہی معاشی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی موجودگی نے اس دورے کو مزید اہمیت دی ہے۔ تہران میں قیام کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ سرحدی معاملات اور سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ یہ دورہ پاکستان کی پرامن خارجہ پالیسی کا عکاس ہے۔