سنگاپور: امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی باضابطہ معاہدہ طے نہیں پاتا تو امریکا ایران پر حملے کرنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مستعد اور مکمل طور پر تیار بیٹھا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق انہوں نے ایشیا کے سب سے بڑے دفاعی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج کی موجودہ صلاحیت اور اہلیت ماضی کی نسبت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ اس لیے اگر ضرورت پیش آئی تو امریکا دوبارہ کارروائی کرنے میں ہرگز دیر نہیں کرے گا۔
پیٹ ہیگستھ نے مزید کہا کہ امریکا کے پاس جدید ہتھیاروں کے ذخیرے دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں، جس کی بدولت امریکی دفاعی نظام انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ یہ برتری کسی بھی قسم کے جارحانہ اقدام کو روکنے کے لیے کافی ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور علاقائی تنازعات میں مصروف ہونے کے باوجود امریکا نے ایشیا پیسیفک خطے سے اپنی توجہ بالکل نہیں ہٹائی ہے۔ یہ خطہ امریکی تزویراتی ترجیحات میں بدستور سب سے اوپر موجود ہے۔
امریکی وزیر دفاع نے عالمی رہنماؤں اور سفارت کاروں کے سامنے عزم ظاہر کیا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے دفاع اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو درپیش چیلنجز کے باوجود امریکی عسکری موجودگی ایشیا پیسیفک میں کسی بھی وقت کی نسبت اب زیادہ موثر ہے۔
مبصرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ امریکا نے اپنے حریفوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ بیک وقت کئی محاذوں پر اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کی مکمل سکت رکھتا ہے اور کسی بھی جارحیت کا جواب دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
دوسری جانب سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کا یہ سخت مؤقف ایران پر دباؤ ڈالنے کی ایک حکمت عملی ہو سکتا ہے تاکہ تہران کو جوہری معاہدے کی میز پر واپس لایا جا سکے، تاہم اس پیش رفت سے مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی خطے میں نئی سیاسی بحثیں جنم لے رہی ہیں اور کشیدگی میں اضافے کا امکان ہے۔