تل ایبیب: اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھارت اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ تعلقات کو غیر معمولی اور اسٹریٹجک نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون اب ایک بڑی طاقت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
عوامی خطاب اور مختلف انٹرویوز میں اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل کو دنیا کے بعض خطوں میں تنقید اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات ایک مختلف نوعیت کے ہیں جہاں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون مضبوط بنیادوں پر قائم ہے،عالمی سطح پر اسرائیل کو بعض اوقات سفارتی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے لیکن بھارت کے ساتھ تعلقات ان کے لیے ایک مضبوط سہارا ہیں۔
انہوں نے بھارت کی آبادی اور عالمی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک بڑی آبادی اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے، اور اس کے ساتھ تعلقات اسرائیل کے لیے نہایت اہم ہیں، بھارت میں اسرائیل کے لیے مثبت جذبات پائے جاتے ہیں اور دونوں ممالک کے عوامی اور حکومتی سطح پر تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔
نیتن یاہو نے اپنے اور نریندر مودی کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے اسے دوستانہ اور قریبی قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون صرف حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی اس کی گہری جڑیں موجود ہیں، بھارت کا دورہ ان کے لیے ایک یادگار تجربہ تھا جہاں انہیں غیر معمولی پذیرائی ملی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل اور بھارت کے درمیان سکیورٹی، ٹیکنالوجی اور معاشی شعبوں میں تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے اور آنے والے برسوں میں یہ تعلقات مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے،دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کر سکتے ہیں۔