ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

حماس نے اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا، غزہ کے لیے امدادی راستے بحال

مقبوضہ بیت المقدس: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی کوششوں کے بعد قابض اسرائیل نے طویل عرصے سے جاری بندش کے بعد غزہ میں واقع رفح اور کرم ابو سالم کراسنگ کو محدود پیمانے پر دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق یہ پیش رفت شدید انسانی بحران اور عالمی دباؤ کے پیش نظر سامنے آئی ہے جس سے امداد کی فراہمی شروع ہوگی۔

اسرائیلی حکام نے واضح کیا ہے کہ رفح راہداری کو ابتدائی مرحلے میں انتہائی محدود نقل و حرکت کے لیے کھولا گیا ہے۔ کرم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے امدادی سامان کی ترسیل مرحلہ وار کی جائے گی تاکہ غزہ میں انسانی ضروریات کو کسی حد تک پورا کیا جا سکے۔

اس دوران تمام تر سرگرمیاں انتہائی سخت سیکیورٹی نگرانی اور پیشگی منظوری کے نظام کے تحت انجام دی جائیں گی۔ کسی بھی فرد کو بغیر اجازت سرحد عبور کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ نقل و حرکت صرف ان افراد تک محدود ہوگی جنہیں سیکیورٹی حکام سے خصوصی کلیئرنس حاصل ہوگی۔

اسرائیلی انتظامیہ نے کہا کہ طبی امداد کے منتظر مریضوں، غیر ملکی شہریت کے حامل افراد اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سفر کرنے والوں کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ سرحد پر موجود ٹرکوں میں خراب ہوتے سامان اور غزہ میں بڑھتی بیماریوں اور بھوک کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ رفح کراسنگ غزہ اور مصر کے درمیان واحد زمینی رابطہ ہے جو کئی ماہ سے عملی طور پر بند تھی۔ اب اس کی نگرانی میں مصر اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی فریقین بھی کلیدی کردار ادا کریں گے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس پیش رفت کے لیے حماس کی جانب سے بھرپور کوششیں کی جا رہی تھیں۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں اور امدادی اداروں نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوراک اور ادویات کی شدید قلت کے باعث یہ راستہ کھلنا لاکھوں فلسطینیوں کے لیے کسی ریلیف سے کم نہیں، تاہم مکمل بحالی کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت باقی ہے۔

دریں اثنا امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ محدود پیمانے پر کھلنے والے راستے غزہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔

واضح رہے کہ مارچ میں ایران پر مشترکہ فوجی کارروائیوں کے بعد اسرائیل نے ان تمام سرحدی گزرگاہوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں