سری نگر/پیپلز کانفرنس کے صدر اور رکن اسمبلی ہندواڑہ سجاد غنی لون نے اسمارٹ میٹروں کی تنصیب کے دوران اضافی کیبل کے لیے صارفین سے مبینہ طور پر رقم وصول کرنے پر جموں و کشمیر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس عمل سے خصوصاً معاشی طور پر کمزور طبقے کے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔
ایکس پر جاری ایک بیان میں سجاد لون نے دعویٰ کیا کہ اسمارٹ میٹر نصب کرنے والی کمپنی ہر گھر کے لیے صرف چار میٹر کیبل فراہم کر رہی ہے، جس میں بجلی کی اِن پٹ اور آؤٹ پٹ کنکشن کے لیے دو، دو میٹر کیبل شامل ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جن گھروں میں اس سے زیادہ کیبل درکار ہوتی ہے، وہاں صارفین کو اضافی کیبل کے لیے رقم ادا کرنے کو کہا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، بعض صارفین کو اسمارٹ میٹر نصب کروانے کے لیے 4 ہزار سے 5 ہزار روپے تک خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔
سجاد لون کا کہنا تھا کہ بجلی کے کھمبوں سے دور واقع گھروں میں زیادہ لمبی کیبل درکار ہونے کے باعث اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ غریب خاندانوں کو بجلی کا کنکشن حاصل کرنے کے لیے اضافی رقم ادا کرنے پر کیوں مجبور کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تنصیب کا مطلوبہ عمل مکمل نہ ہو تو صارفین کو بجلی منقطع ہونے کا خدشہ بھی لاحق ہو سکتا ہے۔
پیپلز کانفرنس کے صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو نشانہ بناتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے اس انتخابی وعدے کا بھی حوالہ دیا، جس کے تحت اہل گھرانوں کو 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کی بات کی گئی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تقریباً دو سال گزرنے کے باوجود یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔
سجاد لون نے یاد دلایا کہ انتخابی مہم کے دوران اسمارٹ میٹرنگ پر تنقید کی جاتی رہی، لیکن اب صارفین کو میٹروں کی تنصیب کے لیے اضافی اخراجات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’جن لوگوں نے ووٹ ڈالنے کے لیے قطاروں میں کھڑے ہو کر ووٹ دیا، اب انہیں اسمارٹ میٹر نصب کروانے کے لیے پیسے ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔‘
وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں |
Load/Hide Comments