امپھال: منی پور میں مشتبہ مسلح شدت پسندوں کے ہاتھوں میتئی برادری کے تین دیہاتیوں کے قتل کے خلاف منگل کو وادی کے اضلاع میں 48 گھنٹے کے بند کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر رہے۔ بند کی اپیل ایک شہری تنظیم نے کی ہے۔ اس دوران دکانیں، بازار، تعلیمی ادارے اور سرکاری و نجی دفاتر بند رہے، جب کہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی تقریباً غائب رہا۔
حکام کے مطابق میتئی برادری کی اکثریت والے وادی کے 5 اضلاع امپھال ایسٹ، امپھال ویسٹ، تھوبل، بشنوپور اور کاکچنگ میں بند کا وسیع اثر دیکھا گیا۔ متاثرہ علاقوں میں بیشتر تجارتی سرگرمیاں ٹھپ رہیں اور آمدورفت بھی متاثر ہوئی۔ پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلی، جب کہ بعض مقامات پر صرف چند نجی گاڑیاں نظر آئیں۔
منگل اور بدھ کو بند کی اپیل کرنے والی تنظیم نیٹیو پیپلز کمیٹی منی پور (این پی سی ایم) کے ارکان نے امپھال ایسٹ اور امپھال ویسٹ کے مختلف علاقوں میں سڑکیں جام کرکے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے پیر کو کَنگ پوکپی ضلع کی سُنوروک پہاڑیوں میں لکڑیاں جمع کرنے گئے تین دیہاتیوں کے قتل کی مذمت کی۔ مظاہروں کے دوران قومی اور ریاستی شاہراہوں پر بھی احتجاج کیا گیا۔
احتیاطی اقدام کے طور پر ریاستی راجدھانی امپھال اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔ اضافی مرکزی اور ریاستی سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ پولیس افسر کے مطابق بند سے متاثرہ علاقوں میں اب تک کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
تاہم، پیر کی رات امپھال ویسٹ ضلع کے کواکیتھیل اور چنگمیرونگ، جب کہ امپھال ایسٹ ضلع کے کھورئی لام لونگ میں مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر جلا کر آمدورفت میں رکاوٹ پیدا کی۔ پولیس کے مطابق پیر کو کَنگ پوکپی ضلع میں لکڑیاں جمع کرنے گئے دیہاتیوں کے ایک گروپ پر مشتبہ مسلح شدت پسندوں نے فائرنگ کردی، جس میں میتیئی برادری کے تین افراد ہلاک اور چار دیگر زخمی ہوگئے۔
پولیس کے بیان کے مطابق، فائرنگ کا واقعہ سَگول مانگ پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں آنے والے علاقے کھونگبال تانگکھول میں پیش آیا، جہاں تقریباً 14 دیہاتیوں کا ایک گروپ موجود تھا۔ فائرنگ میں تین افراد کی گولی لگنے سے موت ہوگئی، جب کہ چار دیگر زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو علاقے سے نکال کر علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
پولیس نے کہا کہ منی پور پولیس، مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)، بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف)، فوج، آسام رائفلز اور دیگر سکیورٹی ایجنسیاں امن و امان برقرار رکھنے، تشدد کو مزید پھیلنے سے روکنے اور عوام کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔ ملزمان کی شناخت کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام ضروری قانونی اور عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ منی پور پولیس نے سماج کے تمام طبقات سے امن برقرار رکھنے اور مزید تشدد کو روکنے کے لیے انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔