اسرائیلی انتخابات:نیتن یاہو اقتدار کا سورج ڈوبنے لگا، اپوزیشن نے عوامی مینڈیٹ کا دعویٰ کردیا

عرب جماعتوں کے دونوں اتحاد مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں۔

October 29, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا

اسرائیلی انتخابات:نیتن یاہو اقتدار کا سورج ڈوبنے لگا، اپوزیشن نے عوامی مینڈیٹ کا دعویٰ کردیا

اسرائیلی انتخابات:نیتن یاہو اقتدار کا سورج ڈوبنے لگا، اپوزیشن نے عوامی مینڈیٹ کا دعویٰ کردیا

اسرائیل میں عام انتخابات کے ابتدائی نتائج نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تقریباً 90 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد نیتن یاہو کا انتخابی اتحاد پارلیمان میں سادہ اکثریت حاصل کرنے سے دور ہے، جبکہ اپوزیشن اور عرب جماعتوں کی نشستیں نئی حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں

ابتدائی نتائج کے مطابق 120 رکنی اسرائیلی پارلیمان میں نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب جماعتوں کے دونوں اتحاد مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں۔

نیتن یاہو کی لیکود پارٹی 26 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، تاہم ان کے سخت گیر اتحادی اتمار بن گویر اور بیزلیل سموٹرچ سے وابستہ جماعتوں کی نشستوں میں کمی متوقع ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق ان جماعتوں کو مجموعی طور پر تقریباً 13 نشستیں مل سکتی ہیں۔ دونوں رہنما غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب گادی آئزن کوٹ کی جماعت یاشار کو 21 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ نفتالی بینیٹ اور یائر لیپڈ سے وابستہ جماعت کو تقریباً 12 نشستیں مل سکتی ہیں۔ ان نتائج کے باوجود اپوزیشن اتحاد بھی تنہا حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل کرنے سے دور ہے۔

انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب تقریباً 78 فیصد رہا، جبکہ عرب شہریوں نے بھی بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے۔ ابتدائی نتائج میں عرب جماعتوں کی مجموعی 19 نشستیں حکومت سازی کے لیے فیصلہ کن اہمیت اختیار کر گئی ہیں، تاہم اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے ان جماعتوں کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ عوامی مینڈیٹ نیتن یاہو کے خلاف ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کو خبردار کیا کہ وہ اسرائیلی فوج کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز کریں۔

اسرائیل میں متناسب نمائندگی کا انتخابی نظام رائج ہے، جس کے تحت جماعتوں کو حاصل ووٹوں کے تناسب سے پارلیمانی نشستیں دی جاتی ہیں۔ موجودہ ابتدائی نتائج میں کسی بھی بڑے اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی، اس لیے نئی حکومت کی تشکیل کا انحصار اتحادی جماعتوں کے فیصلوں اور باقی ووٹوں کی گنتی پر ہوگا۔ حتمی نتائج آنے تک نشستوں کی تعداد میں تبدیلی کا امکان برقرار ہے

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں