گوگل کو تاریخ کا سب سے بڑا جھٹکا، اربوں ڈالرز ڈوب گئے

(30 اکتوبر 2026): مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے استعمال نے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بھونچال پیدا کر دیا۔

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کے حصص میں شدید گراوٹ دیکھنے میں آئی۔ گوگل کے حصص کی قیمت میں 12 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی جس کے بعد کمپنی کی مارکیٹ ویلیو سے 500 ارب ڈالر ختم ہوگئے۔

اسے گوگل کی تاریخ کی بدترین گراوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس گراوٹ نے پوری دنیا کی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

گراوٹ کی دو بڑی وجوہات:

  1. ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کو ڈر ہے کہ چیٹ جی پی ٹی اور دوسرے اے آئی پلیٹ فارمز کے بڑھنے سے لوگ گوگل پر کم سرچ کریں گے، جس سے گوگل کی اشتہارات سے ہونے والی کمائی کم ہو جائے گی۔
  2. گوگل اے آئی پر بہت زیادہ پیسہ خرچ کر رہا ہے۔ کمپنی نے صرف 2026 کی تیسری سہ ماہی میں 51.4 ارب ڈالر خرچ کیے، جس کا بڑا حصہ اے آئی اور ڈیٹا سینٹرز پر لگا۔ اس وجہ سے کمپنی کو لگاتار دوسری سہ ماہی میں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اگرچہ گوگل کے کلاؤڈ بزنس کی آمدنی بڑھ کر 30.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، لیکن اس کے باوجود سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال نہیں ہو سکا۔

یہ بھی پڑھیں:

ماہرین کہتے ہیں کہ اب بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کیلیے اصل چیلنج اے آئی پر پیسہ لگانا نہیں، بلکہ اس پیسے سے منافع کمانا ہے۔ گوگل کی یہ گراوٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ اے آئی جہاں نئے مواقع لا رہی ہے، وہیں بڑی کمپنیوں کے پرانے کاروبار کیلیے بڑا خطرہ بھی بن گئی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں