قومی راجدھانی دہلی کے رام لیلا میدان میں آج انڈیا اتحاد کی ریلی ہونے والی ہے۔ اس میں تمام اپوزیشن پارٹیوں، کارکنوں، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔ مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو سمیت اپوزیشن کے کئی بڑے رہنما بھی اس ریلی میں شرکت کرنے والے ہیں۔ دوسری جانب دہلی پولیس نے بھی ریلی کے پیش نظر سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے ہیں۔ اس ریلی کا آغاز کنوٹ پلیس سے ہوگا اور یہ منٹو روڈ جنکشن سے ہوتے ہوئے اجمیری گیٹ کے راستے رام لیلا میدان تک پہنچے گی۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے لوگوں سے بڑی تعداد میں اس ریلی میں شرکت کی اپیل کی ہے۔
ریلی کے پیش نظر 4000 سے زائد پولیس اہلکاروں اور سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کی کمپنیوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ سیکورٹی کے پیش نظر پروگرام کے مقام کو 14 زون میں تقسیم کیا گیا ہے اور 200 سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ افسران کے مطابق پولیس نے اس ریلی کے لیے سیکورٹی اور ٹریفک کے وسیع انتظامات کیے ہیں۔
واضح رہے کہ انڈیا اتحاد کی ریلی میں 50 ہزار سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔ سیکورٹی فورسز کو منٹو برج سے پروگرام کے مقام تک مارچ کے راستے اور رام لیلا میدان میں تعینات کیا گیا ہے۔ پولیس کمشنر انوراگ کمار نے ہفتہ کے روز منٹو روڈ اور رام لیلا میدان میں سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر اسپیشل کمشنر، جوائنٹ کمشنر اور وسطی دہلی و نئی دہلی اضلاع کے ڈپٹی کمشنر سمیت کئی سینئر افسران بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں :
ایک افسر نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کو پروگرام کے مقام تک جانے والے راستوں اور ریلی کے میدان، دونوں جگہوں پر تعینات کیا جائے گا۔ بھیڑ کو قابو میں رکھنے اور لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنے کے لیے مختلف اضلاع کے پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ سی اے پی ایف کی کمپنیاں بھی تعینات کی گئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ہونے والے کئی احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر گزشتہ ماہ کے آغاز میں طلب کی گئی سی اے پی ایف کی 270 کمپنیوں کی تعیناتی کی مدت میں تیسری مرتبہ توسیع کرتے ہوئے اسے 16 نومبر تک کر دیا گیا ہے۔
افسر نے بتایا کہ رام لیلا میدان کے اندر ایک کنٹرول روم بنایا گیا ہے، ساتھ ہی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فسادات پر قابو پانے والی گاڑیاں اور نگرانی کے دیگر آلات بھی تعینات رہیں گے۔ پروگرام کے مقام کے تمام 14 زون کی نگرانی اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (اے سی پی) رینک کے افسران کریں گے، جب کہ 2 زون کی نگرانی ایڈیشنل ڈی سی پی رینک کے افسران کے سپرد ہوگی۔ سینئر افسران ان تمام انتظامات پر کڑی نظر رکھیں گے۔
پولیس کے مطابق ریلی میں آنے والے افراد کو مقررہ دروازوں سے ہی داخلہ دیا جائے گا اور وہاں میٹل ڈیٹیکٹر کے ذریعے ان کی تلاشی لی جائے گی۔ افسران کے مطابق رام لیلا میدان میں 45 ہزار سے 50 ہزار افراد کی آمد متوقع ہے۔ تاہم کرسیاں لگانے، حصار بندی اور راستے بنانے کے بعد پولیس کا اندازہ ہے کہ وہاں تقریباً 30 ہزار سے 40 ہزار افراد جمع ہوں گے۔ بھیڑ کو حد سے زیادہ بڑھنے اور بھگدڑ جیسی صورتحال سے بچانے کے لیے اضافی جگہ خالی رکھی جائے گی۔
ایک افسر نے بتایا کہ اگر مزید افراد آتے ہیں تو انہیں میدان کے باہر مقرر کردہ مقامات پر بٹھایا جائے گا۔ ریلی کے لیے صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک کی اجازت دی گئی ہے۔ پولیس نے منتظمین سے کہا ہے کہ وہ بھیڑ کو قابو میں رکھنے، لوگوں کی آمد و رفت کو آسان بنانے اور پینے کے پانی کا انتظام کرنے کے لیے رضاکاروں کو تعینات کریں۔ افسران نے بتایا کہ وی آئی پی شخصیات کے لیے الگ الگ داخلی دروازے بنائے گئے ہیں۔
افسران نے بتایا کہ کئی چوراہوں پر ٹریفک کا رخ بدلا جائے گا، تاہم پیدل چلنے والوں کے راستوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ ایل این جے پی اور جی بی پنت اسپتال جانے والی ایمبولینسوں اور ہنگامی گاڑیوں کی بلا رکاوٹ آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔ پولیس نے منتظمین سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ مدعو کیے گئے افراد، رضاکاروں اور ریلی میں لوگوں کو لانے والی بسوں کی تفصیلات فراہم کریں اور پارکنگ کے انتظامات کے لیے ٹریفک پولیس کے ساتھ تال میل قائم کریں۔