علامتی پارلیمنٹ: عوامی مواخذے کی تجویز اتفاق رائے سے منظور، راہل گاندھی نے ’گیانیش کماروں‘ کو دیا خاص پیغام

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی رہائش پر منعقدہ علامتی پارلیمنٹ کی کارروائی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف عوامی مواخذے کی تجویز اتفاق رائے کے ساتھ منظور ہوتے ہی ختم ہو گئی۔ تقریباً 3.14 گھنٹہ تک چلے اس پروگرام کا آغاز اور اختتام دونوں ہی ’جن گن من‘ کے ساتھ ہوا۔ اس علامتی پارلیمانی کارروائی کی صدارت سابق لوک سبھا اسپیکر میرا کمار نے کی، جنھوں نے ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف عوامی مواخذے پر بحث کے بعد ووٹنگ کا اعلان کیا۔ اس موقع پر علامتی پارلیمنٹ میں موجود سبھی سیاسی و سماجی ہستیوں نے ہاتھ اٹھا کر گیانیش کمار کے خلاف عوامی مواخذے کی حمایت ظاہر کی، اور اس کے ساتھ میرا کمار نے اس تجویز کے اتفاق رائے سے منظور ہونے کا اعلان بھی کر دیا۔

ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف عوامی مواخذے پر تبادلۂ خیال میں لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے، ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا، سماجوادی پارٹی رکن پارلیمنٹ ہریندر ملک سمیت درجنوں سیاسی لیڈران نے اپنی باتیں رکھیں۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کی تقریر سب سے آخر میں ہوئی، اور انھوں نے مختصراً کئی اہم حقائق بھی سامنے رکھے اور یہ عزم بھی ظاہر کیا کہ گیانیش کمار اور ان جیسے لوگوں کو کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔

اپنی تقریر کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ ’’مسٹر گیانیش کمار ہندوستان کے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر برقرار نہیں رہ پائیں گے۔ ہمارے پاس اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں کہ یہ صاحب اپنے عہدے پر مزید برقرار نہ رہ سکیں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’اگر بی جے پی ہمارے انکشافات کے باوجود انہیں عہدے پر برقرار رکھنے کی ضد کرتی ہے تو بی جے پی کا کھیل سب کے سامنے بے نقاب ہو جائے گا۔‘‘ علامتی پارلیمنٹ سے متعلق انھوں نے کہا کہ ’’بظاہر یہ اراکین پارلیمنٹ اور عام شہریوں کی ایک میٹنگ دکھائی دے سکتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک سیاسی اسلحہ ہے، جس کا براہ راست نشانہ ان تمام افراد کو بنانا ہے، جنہوں نے ہندوستانی عوام کے ووٹ کو تباہ کرنے کی سازش میں ساتھ دیا ہے۔‘‘

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ یہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف یہ تقریب کانگریس صدر کھڑگے کی سرکاری رہائش 10، راجہ جی مارگ، نئی دہلی واقع باغ میں منعقد کی گئی، جس کا ذکر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’ہم یہ مواخذے کی کارروائی کسی باغ میں کیوں کر رہے ہیں؟ کیونکہ ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ ہمارے لیے ہر ادارے کے دروازے بند ہیں۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’میرا خیال ہے کہ تاریخ میں اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا ہوگا کہ پوری اپوزیشن ہندوستان کے چیف الیکشن کمشنر کے مواخذے پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے کسی باغ میں جمع ہوئی ہو۔‘‘

راہل گاندھی نے اس موقع پر گیانیش کمار اور ان جیسے دیگر لوگوں کو بھی نشانے پر لیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہاں جمع ہونے والے لوگوں کا اس دنیا کے تمام گیانیش کماروں کے لیے ایک پیغام ہے: آپ اس ادارے کی آڑ میں چھپ رہے ہیں، جس کے تحفظ کا آپ نے حلف اٹھایا ہے۔‘‘ انھوں نے تنبیہ والے انداز میں یہ بھی کہا کہ ’’یاد رکھیے، آپ ہمیشہ اس ادارے کے پیچھے نہیں چھپ سکتے۔ ایک دن آپ کو اس ملک کی عوام کے نمائندوں کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔‘‘

راہل گاندھی نے ایس آئی آر کے طریقۂ کار میں موجود خامیوں اور اس کے ذریعہ کی جا رہی مبینہ سیاسی سازش کے ثبوت بھی سبھی کے سامنے پیش کیے۔ انھوں نے کہا کہ ’’13.3 کروڑ ووٹرز کے نام ووٹر لسٹس سے حذف کر دیے گئے۔ یہ ہندوستان کے ہر 7 میں سے ایک شہری، یعنی ملک کے مجموعی ووٹرز کا 15 فیصد ہے۔ ان ووٹرز نے گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں حصہ لیا تھا، جن میں جیت کا فرق محض 3 فیصد تھا۔‘‘ الیکشن کمیشن کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’اب خود الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ ان 15 فیصد ووٹرز کو کبھی ووٹ ڈالنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ الیکشن کمیشن خود یہ کہہ رہا ہے کہ 2024 کے انتخابات غیر قانونی تھے اور لوک سبھا کے لیے منتخب ہونے والے نمائندوں کے پاس عوام کا جائز مینڈیٹ نہیں ہے۔‘‘ راہل گاندھی الیکشن کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے واضح لفظوں میں کہتے ہیں کہ ’’آپ ان ووٹرز کے نام حذف کرنے کے بعد یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ 2024 کے انتخابات جائز اور قانونی تھے۔ یہ بھی نہیں فراموش کیا جا سکتا کہ گیانیش کمار نے اس پورے عمل کی نگرانی کی ہے۔‘‘

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں