وقوعہ کے بعد سرفراز اپنے ساتھیوں سمیت سندھ فرارہوگیاتھا
گوجرانوالہ میں سڑک پر گاڑی روک کر دلھن کو قتل کرنے کے پیچھےتین سال پرانامعاملہ نکلا۔ پولیس نےملزم کو ایک ہفتے بعد کیسے ڈھونڈا،سنسنی خیز تفصیلات سامنے آگئیں۔
پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ سی سی ڈی نے بتایا ہے کہ ولیمے کے روز دلہن کو قتل کرنے والا مرکزی ملزم سرفراز اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا۔
تیئس اکتوبر کو اس نے صباطفیل کو شادی ہال سے شوہرکے ساتھ واپسی پر قتل کردیا۔یہ واقعہ گوجرانوالہ کے علاقے سمن آباد چونگی کے قریب پیش آیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ موٹرسائیکل سوار دو ملزمان نے دلہا کی گاڑی کو راستے میں روکا۔فوٹیج کے مطابق سرفراز نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور صبا پر فائرنگ کر دی۔خاتون کو سینے اور پیٹ میں گولیاں لگیں۔ انہیں زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ دم توڑگئیں۔
وقوعہ کے بعد سرفراز اپنے ساتھیوں سمیت سندھ فرارہوگیاتھا۔روپوش ہونے کے لیے وہاں سے بلوچستان جانے کی کوشش کی۔ اس دوران پولیس مسلسل ملزم کا پیچھا کرتی رہی ۔مخبروں کی طرف سے اطلاعات بھی مل رہی تھیں۔
بالآخر حتمی انٹیلی جینس رپورٹ پرپولیس حرکت میں آئی ۔ملزم جو روپوش ہونے کے لیے بلوچستان جانے سے پہلے ایک بارپھر گوجرانوالہ آیا۔سی سی ڈی استقبال کے لیے تیارتھی۔ اسی دوران ملزم کے ساتھیوں نےفائرنگ شروع کر دی۔پولیس کے مطابق سرفراز اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں سے زخمی ہو گیا۔ اسے ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا لیکن وہ راستے میں ہی ختم ہوگیا۔
معاملے کا پس منظر تین سال پراناہے۔مقتولہ کے بھائی اعجاز کا بتاناہے کہ تقریباً تین سال قبل ملزم نے اپنے والدین کو صبا کے رشتے کے لیے بھیجا تھا، لیکن انہیں انکار کر دیا گیا تھا۔اس کے بعد سرفراز عراق چلاگیا۔جہاں سے وہ دو سال بعد واپس آیاتو اسے معلوم ہوا کہ صبا کی شادی ہورہی ہے۔ پولیس کے مطابق اس نے شادی رکوانے کی کوشش بھی کی جس میں ناکام ہونے پر ولیمے کے روز دلہن کو قتل کر دیا۔