آئی ڈی بی آئی بینک کی فروخت روکی جائے، قیمتوں اور بولی کے عمل کی جے پی سی تحقیقات ہوں: شکتی سنگھ گوہل

نئی دہلی: کانگریس نے آئی ڈی بی آئی بینک کی مجوزہ فروخت میں گھپلے کا الزام عائد کرتے ہوئے حکومت سے عمل روکنے اور مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ترجمان شکتی سنگھ گوہل نے کہا کہ حکومت منافع بخش سرکاری بینک غیر ملکی کمپنی کے حوالے کر رہی ہے، لیکن سودے کی تفصیلات سامنے نہیں لا رہی۔

گوہل کے مطابق، کینیڈا کی فیئر فیکس فنانشل ہولڈنگز کو بینک کا کنٹرول دینے کے لیے حکومت اور لائف انشورنس کارپوریشن (ایل آئی سی) کے حصص فروخت کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کابینہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے 62.72 فیصد حصص 52,878 کروڑ روپے میں فروخت کرنے کی منظوری دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2021 سے 2026 کے دوران بینک نے 30,105 کروڑ روپے منافع کمایا۔

کانگریس ترجمان نے قیمت کے تعین پر سوال اٹھائے۔ ان کے مطابق، ابتدائی تخمینے میں فی حصص قیمت 94.42 روپے تھی، لیکن بولی طلب کرنے کے بعد دوبارہ تخمینہ کرا کے اسے 75 روپے کر دیا گیا۔ آخرکار 81 روپے فی حصص کے حساب سے فروخت کا فیصلہ کیا گیا۔ گوہل نے الزام لگایا کہ حکومت دونوں تخمینوں کی رپورٹ اور دوسرے بولی دہندہ کی تفصیلات عام نہیں کر رہی۔ بولیاں کھلنے کے بعد نیا تخمینہ کرانا قواعد کے خلاف تھا۔

گوہل نے کہا کہ 2003 میں این ڈی اے حکومت کے وزیر خزانہ جسونت سنگھ نے پارلیمنٹ میں یقین دہانی کرائی تھی کہ آئی ڈی بی آئی بینک میں حکومت کی حصے داری کبھی 51 فیصد سے کم نہیں ہوگی۔ پارلیمانی کمیٹی برائے مالیات کی سفارش کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اس وعدے سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بینک کے پاس حیدرآباد کے سائبر سٹی میں 50 ایکڑ سمیت بڑے شہروں میں 29 جائیدادیں ہیں، جن کی مالیت اور مستقبل پر حکومت وضاحت نہیں کر رہی۔ ان کے مطابق، نجکاری سے درج فہرست ذاتوں، قبائل، پسماندہ طبقات، معذور افراد اور خواتین کے روزگار متاثر ہو سکتے ہیں۔

گوہل نے آر ایس ایس اور سودیشی جاگرن منچ کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بینک ملازمین کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد فروخت روکنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن حکومت نے ان کے خط کا تسلی بخش جواب نہیں دیا۔

کانگریس نے مطالبہ کیا کہ فروخت روکی جائے، دونوں ویلیوایشن رپورٹس اور دوسرے بولی دہندہ کی تفصیلات عام کی جائیں اور بولی کے بعد قیمت دوبارہ طے کرنے کی وجہ بتائی جائے۔ پارٹی نے خریدار کی جانب سے رقم کی ادائیگی کے ذرائع، ٹیکس تنازعات میں مبینہ رعایتوں اور آر بی آئی کے ضوابط کے تحت دی گئی سہولتوں کی وضاحت طلب کی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں