چاؤڑی بازار میں دردناک حادثہ، زیر تعمیر سہ منزلہ عمارت منہدم ہونے سے 2 افراد کی موت، پھنسے لوگوں کا ریسکیو شروع

دہلی کے چاندنی چوک علاقہ کے چاؤڑی بازار میں جمعرات کو زیر تعمیر سہ منزلہ عمارت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا۔ یہ حادثہ گلی ستارہ، شیش محل علاقہ میں چاؤڑی بازار میٹرو اسٹیشن کے قریب پیش آیا۔ عمارت کا ایک حصہ گرنے کے بعد موقع پر افراتفری مچ گئی۔ ملبہ میں کئی لوگوں کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دہلی پولیس نے 2 افراد کی موت کی تصدیق کی ہے۔

دہلی فائر ڈپارٹمنٹ کے مطابق اسے زیر تعمیر عمارت کا ایک حصہ گرنے کی اطلاع ملی تھی۔ اس کے بعد موقع پر فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیاں بھیجی گئیں۔ این ڈی آر ایف کی ٹیم بھی جائے حادثہ پر پہنچ گئی اور بچاؤ آپریشن شروع کر دیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق عمارت میں کام چل رہا تھا کہ اچانک تقریباً 10 بجے یہ منہدم ہو گئی۔ اس کے نیچے کتنے لوگ دبے ہیں، اس بارے میں مصدقہ طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ پھر بھی اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ 7-6 لوگ پھنسے ہو سکتے ہیں۔

اس حادثے کی خبر ملنے کے بعد عام آدمی پارٹی کے لیڈر سوربھ بھاردواج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کی، جس میں انہوں نے لکھا کہ ’’چاؤڑی بازار اور چاندنی چوک میں مزید ایک 3 منزلہ عمارت گر گئی ہے اور ملبے میں کئی لوگوں کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔‘‘ سوربھ بھاردواج نے دہلی کی ریکھا گپتا حکومت اور ایم سی ڈی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دونوں نے دہلی کی عمارتوں کا کئی بار حفاظتی آڈٹ کرایا ہے، اس کے باوجود عمارتیں گر رہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حفاظتی آڈٹ کے احکامات تو بار بار دیے گئے، لیکن کارروائی کرنے کے بجائے کئی محکموں نے بار بار رشوت وصول کی۔

سوربھ بھاردواج نے دعویٰ کیا کہ پہلے صرف دہلی پولیس اور ایم سی ڈی پر رشوت لینے کے الزامات لگتے تھے، لیکن ریکھا گپتا حکومت کے آنے کے بعد فائر ڈپارٹمنٹ اور محکمہ مال کے ایس ڈی ایم بھی عمارتوں سے رشوت لینے لگے ہیں۔ بھاردواج نے الزام لگایا کہ جو لوگ رشوت دینے سے انکار کرتے ہیں، ایم سی ڈی ان کی عمارتوں کو سیل کر دیتی ہے۔ انہوں نے گریٹر کیلاش-2 مارکیٹ میں 2 جِم سیل کیے جانے کی مثال دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جنوبی دہلی کے اسی زون میں دوسرے جِم اور تجارتی عمارتیں کیوں کھلی ہوئی ہیں۔ سوربھ بھاردواج نے اسے چنندہ کارروائی قرار دیتے ہوئے حکومت اور متعلقہ محکموں کی جواب دہی پر سوال اٹھائے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں