کانگریس نے اگنی پتھ اسکیم کو ملک کی سلامتی کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت سے اسے فوری طور پر منسوخ کرنے اور مسلح افواج میں مستقل فوجیوں کی بھرتی کا پرانا نظام بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگنی ویروں کے حقوق اور مستقل بھرتی کی بحالی کے لیے اپنی تحریک تیز کرے گی۔
کانگریس کے سابق فوجیوں کے شعبے کے سربراہ کرنل (ریٹائرڈ) روہت چودھری نے جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اگنی ویروں کے پہلے بیچ کی چار سالہ مدت ملازمت مکمل ہونے کے قریب آنے پر اسکیم میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔
ان کے مطابق، نئی تجویز کے تحت چار سال کی مدت مکمل ہونے کے بعد 75 فیصد اگنی ویروں کو مزید دو سال کی توسیع دی جائے گی۔ اس طرح چھ سال کی مدت پوری ہونے پر مقررہ انتخابی معیار پر پورا اترنے والے جوانوں کو مستقل کیا جائے گا، جبکہ باقی کو ملازمت سے فارغ کردیا جائے گا۔
چودھری نے مطالبہ کیا کہ مستقل کیے جانے والے 25 فیصد اگنی ویروں کو ان کی بھرتی کی تاریخ سے ہی مستقل فوجیوں کے برابر تمام سہولتیں اور فوائد فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگنی ویروں کو بھی مستقل فوجیوں کی طرح سالانہ 90 دن کی چھٹی ملنی چاہیے اور انہیں شادی کرنے کی اجازت بھی دی جانی چاہیے۔
انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ طبی وجوہات کی بنا پر سروس سے باہر کیے گئے اگنی ویروں کو دوبارہ فوج میں شامل کرنے کے امکان پر غور کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے لیے جان قربان کرنے والے اگنی ویروں کے اہل خانہ کو بھی مستقل فوجیوں کے خاندانوں کی طرح تمام مراعات اور تاحیات پنشن دی جانی چاہیے۔
کانگریس لیڈر نے اگنی ویروں اور مستقل فوجیوں کی تنخواہوں اور دیگر سہولتوں میں فرق کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے حکومت سے وضاحت طلب کی کہ اگنی ویروں کو ملنے والی تنخواہ کے علاوہ دیگر سہولتوں کے لیے مختص رقم کا حساب کیا ہے اور انہیں یہ فوائد کس طرح فراہم کیے جا رہے ہیں۔
چودھری نے اعلان کیا کہ کانگریس جمعہ سے ’جے جوان پارٹ 2‘ مہم شروع کر رہی ہے۔ اس مہم کے ذریعے اگنی ویروں کے حقوق کے تحفظ اور مسلح افواج میں مستقل بھرتی کا نظام بحال کرنے کے لیے جدوجہد کی جائے گی۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ فوج میں بھرتی کا نظام ایسا ہونا چاہیے جس میں جوانوں کو ملازمت کا تحفظ، مناسب سہولتیں اور مستقبل کی ضمانت حاصل ہو۔