گردن کے درد سے پریشان خاتون نے تکیے پر 1 لاکھ 17 ہزار روپے خرچ کردیے۔
بھارتی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ خاتون جاپان کے دورے کے دوران اپنی ضرورت کے مطابق تیار کروائے گئے (کسٹمائزڈ) تکیے پر ایک لاکھ 17 ہزار (پاکستانی روپے) خرچ کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ خریداری دراصل ‘بہتر نیند’ کے لیے ایک سرمایہ کاری ہے، انہوں نے وضاحت کی کہ لیپ ٹاپ اور موبائل فون پر طویل وقت گزارنے کی وجہ سے وہ مسلسل گردن کے درد کا شکار تھیں۔
ویپن دیپ کور نامی یہ خاتون بھارت سے ‘ون وے ٹکٹ’ لے کر جاپان گئی تھیں اپنے دورے کے دوران انہوں نے ‘نیہون باشی’ ( میں واقع جاپانی بستروں کے برانڈ ‘نیشیکاوا’ کی 400 سال پرانی دکان سے یہ تکیہ خریدا۔
چار نومبر کو انسٹاگرام پر اپنی خریداری کا تجربہ شیئر کرتے ہوئے ویپن دیپ نے بتایا کہ کس طرح یہ تکیہ خاص طور پر ان کے جسم کی ساخت اور سونے کی عادات کے مطابق تیار کیا گیا ہے اور جاپان میں نیند کے ماہرین اس طرح کے خصوصی تکیے تیار کرنے سے پہلے ایک تفصیلی عمل سے گزرتے ہیں۔
سب سے پہلے وہ گاہک کی گردن کی پوزیشن کی پیمائش کرتے ہیں اور یہ طے کرتے ہیں کہ کس قسم کا کپڑا یا مواد مناسب رہے گا اس کے بعد گاہکوں کو مختلف اونچائی والے تکیوں پر لیٹنے کے لیے کہا جاتا ہے تاکہ ماہرین ان کے سونے کے انداز کو سمجھ سکیں اور تکیے کی بہترین اونچائی کا تعین کر سکیں۔
جب تمام پیمائشیں اور جائزے مکمل ہو جاتے ہیں تب تکیہ بنانے کا عمل شروع ہوتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس تکیے میں ‘بنچوٹان’ نامی کوئلے کے چھوٹے سیاہ ٹکڑے (بیڈز) بھرے گئے ہیں، یہ بھرائی کے مواد کے طور پر استعمال ہوتے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ نیند کے دوران آرام کو بڑھانے اور جسم کی بہتر پوزیشن کو سہارا دینے میں مدد کرتے ہیں۔
ویپن دیپ نے کہا کہ انہوں نے اس سے پہلے کبھی اپنی نیند پر زیادہ توجہ نہیں دی تھی۔
تاہم، عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ انہیں نیند کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ لیپ ٹاپ پر کام کرنے موبائل فون کے بے جا استعمال میں طویل وقت گزارنے کی وجہ سے ان کی گردن متاثر ہوئی ہے۔