نئی دہلی: دہلی میں 2020 کے فسادات سے متعلق ایک مقدمے میں کڑکڑڈوما عدالت نے چھ مسلم ملزمان کو تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پولیس ملزمان کے خلاف پیش کیے گئے شواہد کو قانونی طور پر ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ عدالت نے الیکٹرانک شواہد، بالخصوص سی سی ٹی وی فوٹیج، جمع کرنے اور انہیں عدالت میں پیش کرنے کے طریقۂ کار میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو دوبارہ تربیت دینے کی ضرورت بھی ظاہر کی ہے۔
یہ فیصلہ 5 نومبر کو شمال مشرقی دہلی کے کڑکڑڈوما میں ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے سنایا۔ معاملہ نیو عثمان پور تھانے میں درج ایف آئی آر نمبر 87/2020 سے متعلق تھا۔ عدالت نے اس مقدمے میں محمد مکرم، ناصر عرف ارباز، محمد نعیم، امان عباس، گلّو عرف ارشد زیدی اور شعیب کو بری کردیا۔ ایک دیگر ملزم عمران کی موت کے بعد اس کے خلاف عدالتی کارروائی پہلے ہی ختم کردی گئی تھی۔
اس مقدمے میں محمد مکرم کی جانب سے جمعیۃ علماء ہند کے قانونی شعبے نے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں قانونی پیروی کی۔ جمعیۃ کی جانب سے وکیل سلیم ملک نے عدالت میں ملزم کا دفاع کیا۔
عدالت کے مطابق استغاثہ کا مقدمہ بنیادی طور پر ایک زخمی گواہ کے بیان اور سی سی ٹی وی فوٹیج پر منحصر تھا۔ پولیس نے اسی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی شناخت کرانے کی کوشش کی تھی، لیکن عدالت نے پایا کہ فوٹیج کے ساتھ پیش کیا گیا قانونی سرٹیفکیٹ مقررہ تقاضوں کے مطابق نہیں تھا۔ اس کے علاوہ پولیس یہ بھی ثابت نہیں کرسکی کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کو محفوظ رکھنے اور ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل کرنے کے دوران قانونی طریقۂ کار کی مکمل پابندی کی گئی تھی۔
عدالت نے ان خامیوں کی بنیاد پر سی سی ٹی وی فوٹیج کو قابل قبول ثبوت تسلیم نہیں کیا۔ چونکہ زخمی گواہ نے بھی ملزمان کی شناخت اسی فوٹیج کی بنیاد پر کی تھی، اس لیے اس کی گواہی کو ملزمان کے خلاف کافی اور قابل اعتماد ثبوت نہیں مانا گیا۔ استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں عدالت نے چھوں ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا۔
فیصلے میں عدالت نے ایک اہم انتظامی مسئلے کی جانب بھی توجہ دلائی۔ اس کا کہنا تھا کہ بیشتر تفتیشی افسران کو الیکٹرانک شواہد عدالت میں پیش کرنے کے قانونی تقاضوں کی مکمل معلومات نہیں ہوتیں، جس کی وجہ سے اہم شواہد بھی عدالتی کارروائی میں ناقابل قبول قرار پاتے ہیں۔ عدالت نے دہلی پولیس کمشنر کو فیصلے کی نقل بھیجنے کی ہدایت دی ہے، تاکہ تفتیشی افسران کو سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر الیکٹرانک شواہد جمع کرنے، محفوظ رکھنے اور عدالت میں پیش کرنے کے قانونی طریقوں کی باقاعدہ تربیت دی جاسکے۔
جمعیۃ علماء ہند کے مطابق مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں تنظیم دہلی فسادات سے متعلق مقدمات میں متاثرہ افراد کو قانونی مدد فراہم کررہی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کی قانونی کوششوں کے نتیجے میں اب تک 585 افراد ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں، جب کہ 153 افراد مختلف عدالتوں سے بری کیے جاچکے ہیں۔ اس کے علاوہ فسادات سے متاثرہ خاندانوں کے لیے راحت اور بازآبادکاری کے کام بھی انجام دیے گئے ہیں۔