واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں کیے گئے ایک سروے مطابق بیشتر امریکیوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے مسلمانوں کو تکلیف پہنچائی، جب کہ مسلمانوں نے ہی امریکی صدر کی مدد کی۔ واشنگٹن کے معروف پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے رواں برس فروری میں سروے کیا گیا تھا، جس میں مسلمانوں سے بھی رائے لی گئی تھی اور اس سروے کا مقصد ٹرمپ انتظامیہ کا مختلف مذاہب کے ماننے والے افراد کے ساتھ رویہ جاننا تھا۔ سروے کے دوران 48 فیصد افراد کا خیال تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا مسلمانوں کے ساتھ رویہ درست نہیں، جب کہ 7 فیصد لوگوں کی رائے تھی کہ ایسا نہیں۔ سروے میں شامل اکثر افراد کا یہ بھی خیال تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں سے انجیلی مسیحیوں کو فائدہ پہنچا۔ سروے میں شامل افراد نے یہود اور کسی بھی مذہب کو نہ ماننے والوں کے مقابلے میں مسلمانوں کی زیادہ حمایت کی۔ سیاسی طور پر خود لبرل اور ڈیموکریٹک قرار دینے والے گروپ کے افراد میں سے زیادہ تر یعنی 10 میں سے 6 کے مطابق انہیں یقین ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی وجہ سے مسلمانوں کی مشکلات بڑھیں۔ اسی طرح 9 فیصد پروٹسٹنٹ مسیحیوں کی رائے تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے مسلمانوں کی مدد کی۔ 51 فیصد کا خیال تھا کہ ان کی پالیسیوں سے کوئی فرق نہیں پڑا، جب کہ 37 فیصد کے مطابق ان کی پالیسیوں سے مشکلات بڑھیں۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- غازی آباد: ’گلموہر گرینز سوسائٹی‘ کے 2 ٹاور منہدم کیے جائیں گے، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے دیا حکم
- مدھیہ پردیش: چیتے کو گولی مارے جانے کی تفتیش کے لیے ایس ٹی ایف تشکیل
- مرکز اور اتر پردیش میں ’تعلیم کے بدلے خون‘ کا کاروبار کرنے والے آدم خور برسراقتدار ہیں: کانگریس
- بھوپال میں کھلا ہندوستان کا پہلا ’کچرا کیفے‘، خشک کچرا دو اور کھانا لو
- ٹاٹا گروپ معاملہ پر راہل گاندھی کے بیان کو سیتارمن نے بنایا ہدف تنقید، جواب میں راہل نے داغ دیے 2 تلخ سوالات