نئی دہلی(صباح نیوز)بھارت کی سیاسی جماعت کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے کہا ہے کہ طوفان آیا نہیں ہے، بلکہ آنے والا ہے۔ زبردست اقتصادی نقصان ابھی آئے گا اور ہر کوئی اس سے متاثر ہوگا ۔ہفتے کو وڈیو کال کے ذریعے پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مرکز کے اقتصادی پیکج میں قرض کا تذکرہ کیا گیا ہے مگر یہ طلب نہیں بڑھائے گا۔ اگرہم نے پیسے نہیں دیے اور طلب میں اضافہ نہیں ہوا تو ملک شدید اقتصادی بحران کا شکار ہوجائے گا جو کورونا سے بڑا نقصان ہوگا۔ جب تک یہ پیسہ عوام تک نہیں پہنچے گا، تب تک مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ پیسہ عوام کی جیبوں تک پہنچے۔ اس پیکج پر نظرثانی کرنی چاہیے۔کانگریس رہنما نے کہا کہ صورتحال اب یہ یوں ہے کہ طلب اور رسد دونوں ہی تھم گئی ہیں۔ آپ رسد شروع کر سکتے ہیں مگر طلب نہ بڑھانا نقصان دہ ہوگا۔ اس کے لیے لوگوں کی جیبوں میں پیسہ ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی پیکج کے اعلان کے بعد بھی لوگوں کے چہروں پر پریشانی ہے، آرام نہیں۔ اگر ہم نے سوچے سمجھے بغیر لاک ڈاون اٹھا لیا تو یہ بہت بڑا نقصان ہوگا۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- غازی آباد: ’گلموہر گرینز سوسائٹی‘ کے 2 ٹاور منہدم کیے جائیں گے، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے دیا حکم
- مدھیہ پردیش: چیتے کو گولی مارے جانے کی تفتیش کے لیے ایس ٹی ایف تشکیل
- مرکز اور اتر پردیش میں ’تعلیم کے بدلے خون‘ کا کاروبار کرنے والے آدم خور برسراقتدار ہیں: کانگریس
- بھوپال میں کھلا ہندوستان کا پہلا ’کچرا کیفے‘، خشک کچرا دو اور کھانا لو
- ٹاٹا گروپ معاملہ پر راہل گاندھی کے بیان کو سیتارمن نے بنایا ہدف تنقید، جواب میں راہل نے داغ دیے 2 تلخ سوالات