واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) نومبر میں امریکا کے وسط مدتی صدارتی انتخابات ہوں گے۔ صدر ٹرمپ کو ان انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے سابق نائب صدر جو بائیڈن کا سامنا ہو گا، کیوں کہ جو بائیدن نے کہا ہے کہ پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار بننے کے لیے انہیں ڈیموکریٹک پارٹی کے مطلوبہ ووٹ حاصل ہو گئے ہیں۔ اس نامزدگی کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے 1991 مندوبین کی حمایت لازمی ہوتی ہے۔ انہیں یہ مطلوبہ ڈیلیگیٹس کی حمایت منگل کے روز ہونے والی پارٹی ووٹنگ میں ملی۔ اس انتخابی عمل کی ووٹنگ ابھی تک جاری ہے۔ اس کامیابی پر بائیڈن نے کہا کہ وہ اس منزل پر پہنچنے کو ایک اعزاز سمجھتے ہیں، کیوں کہ اس کے حصول کے لیے انہیں انتہائی ذہین امیدواروں کا سامنا تھا۔ اس کا قوی امکان پہلے ہی تھا کہ جو بائیڈن کو پارٹی نامزدگی حاصل کرنے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، اس کی وجہ نامزدگی کی دوڑ میں شامل تمام 20 سے زائد امیدواروں کا مرحلہ وار اپنی مہم کو ختم کرنا بنا۔ ان کے سب سے قریبی حریف ریاست ورمونٹ سے تعلق رکھنے والے بیرنی سینڈرز بھی 2 ماہ قبل اپریل میں دستبردار ہو گئے تھے۔ مقابلے پر امیداور نہ ہونے کے باوجود پارٹی کا داخلی انتخابی عمل مکمل کیا گیا۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- وزارت اطلاعات نے پاک افغان سرحد پر فائرنگ سے متعلق افغان طالبان کا بیان جھوٹ قرار دیدیا
- مٹھی:ایمبولینس میں سلنڈرھماکہ اورآتشزدگی،8 افراد جاں بحق، 5 زخمی
- غازی آباد: ’گلموہر گرینز سوسائٹی‘ کے 2 ٹاور منہدم کیے جائیں گے، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے دیا حکم
- مدھیہ پردیش: چیتے کو گولی مارے جانے کی تفتیش کے لیے ایس ٹی ایف تشکیل
- مرکز اور اتر پردیش میں ’تعلیم کے بدلے خون‘ کا کاروبار کرنے والے آدم خور برسراقتدار ہیں: کانگریس