ہانگ کانگ (انٹرنیشنل ڈیسک) ہانگ کانگ میں چینی سیکورٹی قانون کے نفاذ کے بعد آزادی اظہار پر پابندیوں سے متعلق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ متنازع قانون کی زبان مبہم اور غیر واضح ہے جو مقامی باشندوں سمیت غیر ملکیوں پر بھی نافذ ہے۔ صحافیوں کے تحفظ کی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے ایشیائی پروگرام کے معاون سٹیون بٹلر کا کہنا ہے کہ قانون کے تحت چینی حکومت جو چاہے کر سکتی ہے اور آنے والے دنوں میں اس کی تشریح واضح ہو جائے گی، تاہم اس سے قبل ہی غیر یقینی صورت حال نے آزادی اظہار پر شدید اثرات دال دیے ہیں۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- آندھرا اور اڈیشہ میں ’ارنب‘ سے ہونے والی تباہی پر کانگریس کا اظہار افسوس، مودی حکومت سے متاثرین کی فوری مدد کا مطالبہ
- دلارچند یادو قتل واقعہ میں اننت سنگھ کو مشکلات کا سامنا، سپریم کورٹ نے خودسپردگی کا دیا حکم
- چھتیس گڑھ کے اسکول میں طلبا کے درمیان آسارام کی کتابیں ہوئیں تقسیم، شکایت کے بعد پرنسپل ہٹائے گئے
- چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف انڈیا بلاک کا ’عوامی مواخذہ‘ پروگرام ایک دن کے لیے ملتوی!
- اتر پردیش میں ’فارم-7‘ کے ذریعہ ووٹرز کا نام حذف کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، دستاویزات پیش کرنے کا حکم