بیت المقدس ؍ تہران ؍ واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران کے اہم ترین جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کے قتل کے بعد تہران حکومت نے صہیونی ریاست اسرائیل پر حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے جواب دینے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس سلسلے میں کہا گیا ہے کہ ہم اسرائیلی جال میں پھنستے ہوئے جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کریں گے جب کہ اسرائیلی وزارت خارجہ ایرانی ردعمل پر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریزاں ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے خطرہ محسوس کرتے ہوئے دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں کو ہائی الرٹ کردیا ہے اور ایسے مقامات پر سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای نے جوہری پروگرام کے بانی سائنس دان محسن فخری زادہ کے قتل کے بعد بیان جاری کیا ہے کہ ان کا کام جاری رکھا جائے گا۔ دریں اثنا ایرانی صدر حسن روحانی نے ہفتے کے روز سرکاری ٹیلی وژن پر نشر اپنے بیان میں کہا ہے کہ قتل یہ حالیہ کارروائی ثابت کرتی ہے کہ دشمن ایران سے کس قدر نفرت کرتے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مذمت کرنے کا مطالبہ ہے۔ اُدھر فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے واقعے کی مذمت کی ہے۔ علاوہ ازیں کسی نامعلوم خطرے کی بنیاد پر امریکی بحری بیڑے ’’یو ایس ایس نیمٹز‘‘ کو خلیج عمان میں تعینات کردیا گیا ہے۔ امریکی بحریہ کی پانچویں فلیٹ کے ترجمان کمانڈر ربیکاریبارچ نے تعیناتی کی تصدیق کردی ہے۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- ’گورکھپور بچانے میں بی جے پی نے وارانسی کی دونوں سیٹیں گنوا دیں‘، اکھلیش یادو کا یوگی آدتیہ ناتھ پر طنز
- عدالتی کارروائی کی ویڈیو کے غیر مجاز استعمال پر سپریم کورٹ سخت، خلاف ورزی پر کارروائی کی ہدایت
- بی جے پی پارلیمنٹ کی توہین کر رہی ہے، سی ای سی کی تقرری پر جے رام رمیش کا حملہ
- مساجد پر بلڈوزر کارروائیاں روکنے اور مدارس کو ہراساں نہ کرنے کا مطالبہ، جمعیۃ علماء ہند کی تمام اکائیاں حکام کو پیش کریں گی میمورنڈم
- خواتین پہلوانوں کے الزامات کے درمیان برج بھوشن سنگھ کو بی جے پی کی ریاستی مجلس عاملہ میں جگہ، فیصلے پر اٹھے سوالات
