افغانستان کے صوبے ہرات میں ملبوسات فروخت کرنے والے دکانداروں نے طالبان کی جانب سے نئی ہدایات جاری ہونے کے بعد دکانوں کے ملبوسات پہنے تشہیری پتلوں اورمجسموں سے سر علیحدہ کرنے شروع کر دئیے۔میڈیارپورٹس کے مطابق طالبان کی وزارت امر بالمعروف ونہی عن المنکرنے گذشتہ ہفتے یہ احکامات جاری کیے تھے کہ چہروں والے یہ پتلے جن پر ملبوسات ٹنگے ہوتے ہیں اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی ہیں۔ان پتلوں کے سر جدا نہ کرنے کی صورت میں دکانداروں کو سزا بھگتنے کی دھمکی دی گئی تھی۔امر بالمعروف ونہی عن المنکروزارت کے مقامی سربراہ عزیز رحمان نے میڈیا کو بتایا کہ دوکانوں میں ایستادہ یہ مجسمے بت ہیں اور اسلام میں بتوں کی کوئی گنجائش نہیں اس لئے انہوں نے ان پتلوں کے سر تن سے جدا کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کر دی
- ’تاکہ کوئی قانونی کارروائی نہ ہو سکے‘، انکیتا قتل واقعہ کے ملزم دشینت گوتم کی حلف برداری پر کانگریس کا سخت ردعمل
- پرگیان اوجھا بنے چیف سلیکٹر، رمیش پوار سینئر مردوں کی سلیکشن کمیٹی میں شامل
- دہلی آڈٹ میں 100 سے زائد غلط اندراجات، کانگریس کا ایس آئی آر روکنے اور اہل ووٹروں کے نام بحال کرنے کا مطالبہ
- ٹرین میں اونچی آواز میں فون پر بات کی تو لگے گا 1000 ہزار روپے کا جرمانہ، ریلوے کی وارننگ